تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 386 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 386

تاریخ احمدیت جلد ۴ 378 خلافت ثانیه و سوال سال تحریک شدھی اور تحریک خلافت کے لیڈر جماعت احمدیہ کے تبلغی جہاد کی ان مہمات کے مقابل تحریک خلافت کے لیڈروں کی بے حسی انتہا تک پہنچی ہوئی تھی اور انہوں نے اس اہم ترین مسئلہ کی طرف سنجیدگی سے توجہ کرنے کی تکلیف ہی گوارا نہیں فرمائی۔چنانچہ اخبار " روزگار " آگرہ (یکم مئی ۱۹۲۳ء) نے لکھا۔اس میں شک نہیں کہ جتنے وفد اور جس قدر واعظ اور ہمدردان اسلام کو شاں ہیں ان میں سب سے بڑھا ہوا نمبر جماعت قادیان کا ہے۔جس کے واعظ ہر قسم کے مصائب اور مصارف برداشت کر کے مصروف کار ہیں بے حد قابل شکر گزاری کے ہیں۔لیکن افسوس یہ کیسا برتاؤ ہے کہ فرضی یا اصلی خلافت کے حامیان کی جماعت جو ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں کی گہری پسینے کی کمائی سے بادن لاکھ وصول کر کے ٹھکانے لگا چکی ہے وہ واقعات فتنہ ارتداد دیکھتے ہیں اور خاموش ہیں "۔شیعہ اصحاب فتنہ ارتداد کا مقابلہ کرنے کو کہاں تک اہمیت دیتے شدھی اور شیعہ اصحاب تھے اس کا اندازہ شیعہ اخبار " در نجف " (یکم جولائی ۱۹۲۳ء) کے مندرجہ ذیل اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے۔ملکانہ راجپوت کے فتنہ ارتداد کو روکنا عبث اور بے فائدہ کوشش ہے۔ہزاروں روپے کا مفت برباد کرنا ہے "۔اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ " فرض کرو اگر وہ مسلمان بھی ہو گئے تو کون مسلمان ہوں گے سنی مسلمان ، پیر پرست گور پرست اوہام پرست، تقلید پرست یا غلام احمدی که مرزا غلام احمد قادیانی کونی اللہ جری اللہ مانیں گے یا اہلحدیث جو خداتعالی کو مجسم قرار دے کر عرش پر بٹھائیں گے اور پنڈلی کا سجدہ کریں گے اور اللہ تعالیٰ (کے) قدم دوزخ میں ڈالیں گے۔نیز اللہ تعالی سے بالمشافہ گفتگو کر کے اس سے مصافحہ و معانقہ وغیرہ کریں گے۔ملکانہ راجپوت سے زیادہ خطرناک وہ مسلمان ہیں جو دائرہ اسلام میں رہ کر صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے ہیں۔شدھی اور دوسرے مسلمان علماء خلافقی لیڈر وغیرہ تو خیر خاموش رہے مگر دوسرے مسلمان علماء نے کس طرح اپنی مخالفانہ سرگرمیوں نقصان پہنچانے کی کوشش کی اس کی تفصیل چوہدری نذیر احمد خاں وکیل جے پوری نے ۳/ اپریل ۱۹۲۳ء کو دہلی کی جامع مسجد میں بیان فرمائی اور کھلے لفظوں میں مسلمانوں کو بتایا کہ۔" حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے آریوں کے بطلان میں وہ مصالحہ جمع کر دیا ہے اگر اس کو اب استعمال کیا جائے تو یہ لوگ بیخ و بن سے اکھڑ سکتے ہیں۔لیکن تعجب اور افسوسناک امر تو یہ ہے کہ ہمارے مسلمان علماء ان کی اور ان کی جماعت کی خواہ مخواہ مخالفت کرتے ہیں۔حالانکہ وہ لوگ " دشمنان