تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 376
تاریخ احمدیت جلد ۴ 368 خلافت ثانیه کار مواں سال سنبھال سکتی ہے۔اگر یہ لوگ اس قسم کے اعتراض نہ کریں تو اور کیا کریں کیونکہ یہ کام ان کی طاقت سے باہر ہے۔ٹھاکر صاحب یہ الفاظ سن کر چیخ اٹھے کہ یہ ہندو دھرم کی توہین کی ہے۔میرے پاس حوالہ موجود تھا میں نے فوراً ستیارتھ پرکاش " نکال کر اسے دکھادی۔وہ بہت شرمندہ ہوا۔رات کا پچھلا پہر تھا۔مباحثہ ٹھاکر صاحب کے ان الفاظ پر ختم ہوا کہ صبح دس بجے اب میں اعتراض کروں گا یہ کہہ کر ایک شعر پڑھا جس کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ قادیانی تلوار سے ہی قابو آئیں گے یہ علم سے قابو میں نہیں آسکتے۔میں نے کہا اس شعر کا جواب آپ کو انشاء اللہ کل ہی دیا جائے گا۔غرضیکہ سب مردو زن اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔میں اکیلا ہی دیا جلا کر بیٹھ گیا اور خیال کیا کہ اس کے بے تکے شعروں کا جواب بھی اگر بے تکے اشعار میں ہی دیا جائے تو اثر اچھا رہے گا اور خدا کا نام لے کر لکھنے بیٹھ گیا۔فجر کی نماز تک میں نے اپنے ناقص علم کے مطابق ستر (۷۰) اشعار بنائے۔جو شعر مجھے اس وقت یاد ہیں تحریر کر دوں گا باقی سب ریکارڈ قادیان میں رہ گیا تھا۔خیر فجر کی نماز کے لئے بہت پہنچا۔وہاں ایک فقیر طبع آدمی جسے ہم میاں صاحب کہا کرتے تھے اسد علی نامی تھا۔وہ میرا بہت گردیدہ ہو چکا تھا۔وہ بھی رات کو گفتگو کے اختتام پر ہی سویا تھا۔اسے بیدار کیا اور اذان کہلوائی۔بعدہ دونوں نے نماز با جماعت ادا کی۔باقی لوگوں نے ہم سے وعدہ کیا ہو ا تھا کہ ہم جمعہ سے نمازیں پڑھنا شروع کر دیں گے۔نماز کے بعد دعا اور قرآن کریم پڑھ کر سو گیا جب حضور ہمیں الوداع کہنے کے لئے ڈلہ موڑ تک تشریف لائے تھے تو اس وقت یہی نصیحت کی تھی کہ کثرت سے دعائیں کرنا نماز کے بعد تسبیح و تحمید کرنا اور خدا کو ہی قادر مطلق جاننا اور صرف اور صرف اس کی ذات پر بھروسہ کرنا۔کیسی بھی مخالفت ہو گھبرانا نہیں بلکہ میدان میں شیر بنا۔مخالف چاہے کتنا بڑا عالم ہو اسے معمولی سمجھنا اور نڈر ہو کر اسے جواب دینا۔اپنے علم اور عقل پر بھروسہ نہ کرنا۔ہر وقت خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھنا۔تلاوت قرآن پاک با قاعدہ کرنا۔ہر ایک کو دوست بنانے کی کوشش کرنا۔خوش اخلاقی کو اپنا شعار بنانا تہجد پڑھنے کی کوشش کرنا۔مخالف کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا۔ملکانو کی اچھی طرح سے تربیت کرنا اور دین حق کا پابند کرنے کی کوشش کرنا۔دین حق کی انہیں خوبیاں بتاتے رہنا اور خود بھی کتب کا مطالعہ کرتے رہنا۔سب سے خندہ پیشانی سے پیش آنا اور دل و جان سے سب کا ہمدرد بنتا۔جاؤ خدا تعالیٰ حافظ و ناصر ہو۔آمین ثم آمین " میں بیدار ہو کر دوبارہ بیت پہنچا۔لوگ بھی بصد شوق آئے ہوئے تھے اور مختلف قسم کی باتوں میں مصروف تھے کوئی کہتا کہ ” مولبی کا بہت مجہ آیو۔ٹھا کر سسر کو بھی کوئی آیسو مولی نہ ملو تھو کوئی کہتا کہ "ہم جو جانت رہے کہ جوہ مولبی سید ھو سا دھو معلوم ہوت ہے پر رات کو تو عجب کر د یو تھو، غرضیکہ قسم قسم کی باتیں ہو رہی تھیں۔رات والی بڑھیا پہنچ گئی اور کہنے لگی کہ مولوی بیٹا اللہ آپ کو بہت عمر دے یہ ٹھا کر بڑا آریہ تھا۔اس کی خوب رات کو خبر لی ہے۔