تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 375 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 375

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 367 خلافت عثمانیہ کا دسواں سال سب میرے جواب کے منتظر رہتے تھے۔ٹھاکر صاحب بولے کہ آپ کے عرب والے نبی نے نو (۹) عورتوں کے ساتھ شادی کیوں کی ؟ جب کہ امت کے لئے چارہی جائز قرار دیں۔اس کی کیا حکمت ہے ؟ میں نے اسے بتایا کہ عرب کے لوگ بھی ہندوؤں کی طرح بت پرست تھے اس وقت نہ تو کوئی اصول اور نہ کوئی شریعت تھی۔جس طرح آج پٹیالہ کے ہندو راجہ نے دو سو سے زیادہ بیویاں رکھی ہوئی ہیں اسی طرح عرب کے لوگ اس وقت سو سو بیویاں رکھ لیتے تھے۔جب حضرت نبی کریم ﷺ نے نویں شادی کی تو خدا تعالی کی طرف سے حکم آیا کہ اور شادی نہیں کرنا اور نہ ان میں سے ہی کسی کو چھوڑنا ہے۔چونکہ نبی کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہوتی ہیں اس لئے ان میں سے کسی کو بھی علیحدہ نہیں کرنا اور ساتھ ہی مومنوں کے لئے حکم دے دیا کہ تم چار تک اپنے خیالات کے مطابق شادیاں کر سکتے ہو اور اگر تمہیں لڑائی جھگڑے کا خوف ہو تو ایک ہی شادی رہنے دو۔اگر رسول پاک ﷺ کسی بیوی کو چھوڑ دیتے تو وہ ماں کی صورت میں کہاں جاتی جب کہ منو شاستری میں بھی یہی لکھا ہے کہ گرد کی بیوی ماں ہوتی ہے۔ٹھاکر صاحب کہنے لگے کہ میں اب سمجھ گیا ہوں۔میں نے کہا کہ اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ ہمارے آقا نے تو تو شادیاں کر کے اپنے حسن و اخلاق اور سلوک کا یہ نمونہ دکھایا کہ کسی ایک بیوی کو بھی کسی جگہ نا انصاف کہنے کا موقع نہیں ملا۔حضور کے نیک سلوک کا ان کے دلوں پر اتنا اثر تھا کہ ایک دفعہ حضور ا کے پاس مال غنیمت بکثرت پہنچا۔یہ دیکھ کر بعض بیویوں کے دلوں میں خیال پیدا ہوا کہ اب موقع ہے کہ ہم آپ سے اچھے لباس اور زیورات کا مطالبہ کریں۔چنانچہ انہوں نے آپ کے سامنے اپنی دلی کیفیت کا اظہار کیا۔حضور ﷺ کو اللہ تعالٰی نے جواب میں بتایا کہ اے نبی اپنی ان بیویوں سے کہہ دو کہ میں تمہیں تمہاری خواہش کے مطابق زیورات اور لباس بنوا دیتا ہوں مگر پھر تم میرے پاس نہیں رہ سکتیں یعنی علیحدہ ہونا پڑے گا۔اور اگر تم اللہ تعالی کو اور مجھے پسند کرتی ہو تو پھر تم اس خواہش کو ترک کر دو۔یہ سن کر سب نے یہ جواب دیا کہ ہم اپنی اس خواہش کو قربان کرتی ہیں ہمیں صرف آپ کی اور اللہ تعالی کی ضرورت ہے۔بظا ہر یہ الفاظ معمولی نظر آتے ہیں مگر جب مستورات کی حالت اور خواہشات کو سامنے رکھ کر غور کیا جاتا ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی بیویوں کے ایسا کہنے سے آپ کے اعلیٰ اخلاق کا ان کے قلوب پر کتنا گہرا اثر تھا حالانکہ ان کا مطالبہ بھی جائز تھا لیکن انہوں نے کسی قسم کی بحث نہیں کی اور اپنے مطالبہ کے مقابل پر اپنے خدا اور اس کے رسول کا ساتھ نہ چھوڑا۔مگر یہ اعتراض کرنے والے ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھیں۔کہ ان کی ایک بیوی بھی جسے اولاد نہ ہو گیارہ مردوں سے نیوگ کر سکتی ہے۔کتنی شرم کی بات ہے۔پس معلوم ہوا کہ عرب کا ایک آدمی نو یا گیارہ بیویاں سنبھال سکتا تھا نگران آریوں کی ایک بیوی گیارہ مردوں کو