تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 374 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 374

تاریخ احمد د - جلد ۴ 366 خلافت ثانیه کار سوال سال کر دینا اور ہر وقت اس پر مصیبت کھڑی رکھنا اور ذرا بھی عزت نہ کرنا حالانکہ اس باپ کی کوشش سے ہی گائے دودھ دینے کے قابل اور ماں بنی تھی۔(۳) اگر گائے ماں کا ہی مقام رکھتی ہے جو انہیں بچپن میں دودھ پلاتی ہے تو پھر اس کے مرنے پر وہ کیوں چماروں کے حوالے کر کے اس کی کھال اترواتے ہیں اور اس کے گوبر او پلے اور پیشاب سے چنا متر بناتے ہیں اور اس کی کھال کے جوتے پہنتے ہیں۔یہ سب تقدیس کے دعوے ان کی ان حرکات سے باطل ہو جاتے ہیں۔انہوں نے صرف ہندوؤں کو مسلمانوں سے دور رکھنے کے لئے یہ ایک جذباتی طریق اختیار کیا ہوا ہے۔(۴) اگر ناکارہ بھینس بکری اونٹنی بھیٹر و غیرہ ذبح کئے جائیں اور ان کے مرنے پر ہی چمڑہ میسر آتا ہو تو پھر پانچ صد روپے کا بھی جو تا نہیں مل سکتا اور لوگ دھوپ اور سردی میں ننگے پاؤں ہی چلیں اور ہر وقت کانٹے ہی نکالتے رہیں۔(1) دو سرا سوال کہ دین حق تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ٹھا کر صاحب نے کر کے راجپوتوں کی سخت توہین کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی تلوار سے ڈر کر اپنا آبائی مذہب جھٹ تبدیل کر لیا مگر چمار ، بھنگی ، تیلی وغیرہ تلوار سے نہ ڈرے اور انہوں نے اپنا مذ ہب تبدیل نہ کیا۔کیا آپ راجپوتوں کی یہی بہادری ظاہر کرتے پھر رہے ہیں کہ راجپوت اتنے ڈرپوک اور بھوکے تھے کہ جب انہیں تلوار اور پاشے دکھائے گئے تو جھٹ ڈر کر اور میٹھی چیز دیکھ کر مسلمان ہو گئے۔ٹھاکر صاحب آپ نے تو تاریخ دان ہونے کا دعوی کیا تھا۔اب آپ جائیں کہ جب حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اس ہندوستان میں درویشی کی حالت میں آئے تھے تو ان کے ہاتھ میں کون سی تلوار تھی اور ان کے ہمراہ کون سی فوج تھی؟ ہاں بزرگی، نیکی، تقوی، طہارت، خوش اخلاقی، دلائل عبادت، ریاضت شرافت اور تبلیغ کی تلوار تھی جس نے راجہ اور پر جا کو ان کے سامنے جھکا دیا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہو گئے ورنہ جب مسلمان بادشاہ اکبر تخت نشین ہوئے تو ان کی بیوی جو دہ بائی تھی اور دہ تمام عمر بت پرستی کرتی رہی اور ہندو ہی رہی۔اور اسے جبرا مسلمان نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ دین حق میں جبر نہیں ہے۔بلکہ "لا اکراه فی الدین " کا سبق دیا جاتا ہے۔دین حق ہمیشہ اپنی صداقت اور خوبیوں سے پھیلا ہے۔آپ آج بھی قادیان جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے ہندو اور سکھ مسلمان ہو چکے ہیں۔اب تو مسلمانوں کے ہاتھ میں دین حق پھیلانے کے لئے تلوار نہیں ہے اور نہ اس سے قبل ہی دین حق تلوار سے پھیلا۔البتہ اتنا ضروری ہے کہ جس نے تلوار سے دین حق کو مٹانے کی کوشش کی اسے تلوار ہی سے روکا گیا۔اب آپ دلائل سے بات کریں انشاء اللہ دلائل سے ہی جواب دیئے جائیں گے۔اس وقت کافی رات گزر چکی تھی مگر مرد بدستور چوپال میں اور عورتیں مکانوں کی چھتوں پر بیٹھی تھیں اور