تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 370
تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 362 خلافت ثانیہ کا دسواں سال نہیں پہنچانا۔وہ بڑے اصرار کے بعد لے ہی آئی اور کہنے لگی بیٹا تین دن تک تو مہمان رہ کر حق رکھتے ہیں پھر جو تھے دن خود انتظام کر لیتا۔اس معمر خاتون کا نام ممتاز بیگم تھا اور یہی اس گاؤں میں نماز و روزہ سے واقف تھی۔باقی سب اسلام کی تعلیم سے ناواقف تھے۔اس کی زرعی زمین کافی تھی لیکن بوجہ بیوہ ہونے کے مزار عان بد دیانتی کر لیا کرتے تھے۔اس کی دو شادی شدہ بیٹیاں تھیں اور ایک لڑ کا نصیر الدین خان تھا جو مڈل پاس تھا۔میرا پہلے دن ہی ان سے تعارف ہو گیا تھا۔میں نے ظہر کی اذان کہی۔بعض لوگ اذان سن کر آئے اور مجھے مل کر چلے گئے۔رات کے وقت مائی جی ہی کھانا لے آئی اور میں نے اپنا سامان ان ہی کے گھر رکھ دیا۔خود میں چوپال یعنی ایک مشترکہ مکان ہوتا ہے جس میں ہر گھر کی ایک چارپائی موجود رہتی ہے اور سب گھروں کے مہمان کھانا وغیرہ کھا کر رات وہیں آکر بسر کرتے ہیں۔اگر کوئی مسافر ہو تو اس کا کھانا بھی چوپال میں ہی آجاتا ہے۔رات کو یہ سب لوگ میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔نمبردار بھیجو خان اور وہاں کا رئیس مظفر خان اس کا والد جان محمد خان ، دلاور خان ، خیراتی خاں ، میاں خاں، منشی خاں ، عثمان خاں ، نتھو خاں ، نور محمد خاں اور افضل خاں وغیرہ وغیرہ۔یہ سب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔میں نے ان سے تعلقات پیدا کرنے کے لئے ایک دلچسپ کہانی سنائی کیونکہ وہ لوگ کہانیوں کے بہت شوقین تھے۔صبح کے وقت گاؤں میں چرچا ہو گیا کہ " ارے پنجابی مولبی صاحب تو عجب کی کہانی کا بت ہیں یعنی پنجابی مولوی صاحب تو غضب کی کہانی کہتے ہیں۔میں بھی دن بھر اس قسم کی کہانیاں گھڑ تا رہتا تھا جس سے دین حق کے ساتھ محبت بھی پیدا ہو اور دلچسپ بھی ہو۔غرضیکہ تین چار دنوں میں وہ لوگ میرے ساتھ مانوس ہو گئے۔میں نے آہستہ آہستہ ارد گرد کے دیہات کا دورہ کرنا شروع کر دیا اور آریوں کے تعلقات اور آمد و رفت کا پتہ رکھا۔مجھے نگہ گھنو میں رہتے ہوئے پانچواں ہی دن تھا کہ ٹھا کر گردند ر سنگھ آریہ اپدیشک وہاں آگیا۔اس گاؤں میں ہندو ٹھاکروں کے دو ہی گھر تھے اور ایک گھر بنئے کا تھا مگر یہ سب لوگ میرے واقف ہو چکے تھے۔اس آر یہ ٹھاکر نے آکر ان لوگوں کو آریہ بن جانے کی پر زور تحریک کی اور ان کے جذبات کو بہت بھڑ کایا اور ان میں ایک خون ایک تمدن اور ایک لباس اور ایک ہی قسم کی زبان ہونے اور اعتقاد میں ذرا سا اختلاف ہونے پر انہیں متحد ہونے کی ہدایت کی۔میں خاموشی سے ان کی ساری باتیں سنتا رہا۔جب وہ اپنی بات ختم کر چکا تو میں نے کہا تھا کر صاحب آپ نے متحد ہونے کی تحریک کی ہے میں نے اس سے بہت اچھا اثر لیا ہے اور ہم سب لوگ بھی یہی چاہتے ہیں کہ دنیا کے تمام لوگوں کا ایک ہی خون ہے ایک ہی خوراک ہے ایک ہی آنے کا راستہ ہے اور ایک ہی جانے کا راستہ ہے لباس بھی سب پہنتے ہیں اور غذا بھی سب کھاتے ہیں۔زمین بھی سب کی ایک ہے اور آسمان بھی سب کا ایک ہی لیکن جس طرح