تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 10 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 10

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 10 سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت بھی اپنے مقدس والدین کے ہمراہ سفر تھے۔سفر فیروزپور (نومبر دسمبر ۱۸۹۳ء) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر بچپن میں سلسلہ احمدیہ کے ابتدائی حالات کا مشاہدہ الدین محمود احمد خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سلسلہ احمدیہ کے ابتدائی چشم دید حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں۔(1) " جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا اس وقت میں بچہ تھا۔دو پونے دو سال کی عمر ہو گی پس اس وقت کے حالات تو میں بتا نہیں سکتا۔مگر مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب ہمیں اپنے گھروں سے نکلنے نہیں دیا جاتا تھا کیونکہ خطرہ تھا کہ دشمن کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچا ئیں۔اس زمانہ میں ہمیں گھروں میں یوں بند رکھا جاتا جیسے کہتے ہیں پرانے زمانوں میں بعضوں کو بھورے میں سالہا سال تک رکھا جاتا تھا۔ہمیں نہایت سختی سے کہا جاتا کہ کہیں سے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ لینا مبادا اس میں کسی دشمن کی شرارت ہو "۔(۲) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اپنے رشتہ داروں نے اعلان کر دیا۔بلکہ بعض اخبارات میں یہ اعلان چھوا بھی دیا۔کہ اس شخص نے دوکانداری چلائی ہے اس کی طرف کسی کو توجہ نہیں کرنی چاہئے۔اور اسی طرح ساری دنیا کو انہوں نے بد گمان کرنے کی کوشش کی۔پھر یہ میرے ہوش کی بات ہے کہ بہت سے کام کرنے والے لوگوں نے جو زمیندارہ انتظام میں کمیں کہلاتے ہیں آپ کے گھر کے کاموں سے انکار کر دیا اس کے محرک دراصل ہمارے رشتہ دار ہی تھے "۔(۳) " میری عمر تو چھوٹی تھی لیکن وہ نظارہ اب بھی یاد ہے۔جہاں اب مدرسہ (احمدیہ ) ہے وہاں ڈھاب ہوتی تھی۔ور لا حصہ جہاں اب بازار پڑا ہے وہاں میلے کے ڈھیر لگے ہوتے تھے اور مدرسہ کی جگہ لوگ دن کو نہیں جایا کرتے تھے کہ اس جگہ آسیب ہو جاتا ہے۔قادیان کے لوگ سمجھتے تھے کہ یہ آسیب زدہ جگہ ہے اول تو وہاں کوئی جاتا نہیں تھا اور جو جاتا بھی تو اکیلا کوئی نہ جاتا۔بلکہ دو تین مل کر جاتے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ یہاں جانے سے جن چڑھ جاتا ہے۔جن چڑھتا تھا یا نہیں بہر حال یہ جگہ دیران تھی۔۔۔۔۔مجھے وہ دن بھی یاد ہیں کہ میں چھوٹا سا تھا حضرت صاحب مسیر کو جایا کرتے تھے میں بھی کبھی کبھی اصرار کرتا تو حضرت صاحب مجھے ساتھ لے جاتے۔مجھے یاد ہے برسات کا موسم تھا ایک چھوٹے سے گڑھے میں پانی کھڑا تھا۔میں اسے پھلانگ نہ سکا۔تو مجھے خود اٹھا کے آگے کیا گیا پھر کبھی شیخ حامد علی صاحب اور کبھی حضرت صاحب خود مجھے اٹھا لیتے۔اس وقت نہ کوئی مہمان تھا اور نہ یہ مکان تھا۔کوئی ترقی نہ تھی مگر ایک رنگ میں یہ بھی ترقی کا زمانہ تھا۔کیونکہ اس وقت حافظ حامد علی صاحب آچکے