تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 345
تاریخ احمدیت جلد ۴ 337 خلافت عقائد کی تعلیم دے کر جن میں ان کا درجہ گھٹایا ہو۔۴۔تاریخی طور پر ایسی مثالیں جمع کی جائیں جن سے معلوم ہو کہ مسلم راجپوتوں نے ہندو راجپوتوں کو شکست دی ہے اور پھر اس قوم کے لوگوں کے سامنے یہ بات پیش کی جائے کہ یہ لوگ جو فاتح ہیں ایسے بزدل تھے کہ ڈر کر مسلمان ہو گئے اور ہندو راجپوت جو ان سے ماریں کھاتے تھے ایسے بہادر تھے کہ یہ اپنے دھرم پر قائم رہے۔۵۔بھرت پور - الور - بیکانیر اور دوسری راجپوتانہ کی ریاستوں کی تاریخوں سے یہ امر معلوم کیا جائے کہ وہ کب سے قائم ہیں اور اگر معلوم ہو کہ یہ قدیم سے چلی آتی ہیں مسلمان کی بنائی ہوئی نہیں ہیں یا یہ کہ ان کے علاقے کبھی مسلمانوں کے براہ راست انتظام کے نیچے نہیں آئے تو پھر ان قوموں کے سر کردوں سے دریافت کی جائے کہ ان کی قومی روایتوں کے رو سے وہ ان علاقوں میں کب سے بس رہی ہیں جب ان کی روایتوں سے ثابت ہو جائے کہ وہ باہر سے آکر نہیں ہیں بلکہ اسی علاقہ کی رہنے والی ہیں تو پھر یہ بات ان کے سامنے پیش کی جائے اور آریوں سے بحث میں بھی یہ حربہ استعمال کیا جائے کہ جب ان علاقوں پر مسلمانوں کا قبضہ کبھی ہوا نہیں اور جب یہ قومیں باہر سے نہیں آئیں تو پھر ان ریاستوں میں جاکر مسلمانوں نے ان لوگوں کو جبراً مسلمان کیوں کر بنا لیا۔اور اگر ان ریاستوں میں یہ لوگ بلا جبر کے مسلمان ہو گئے تو باہر کے اس قسم کے لوگوں کی نسبت کیوں نہ یقین کیا جائے کہ وہ بھی اسی طرح مسلمان ہو گئے تھے۔- ان لوگوں کے مسلمان ہونے کی تاریخ دریافت کی جائے پھر ہندو مصنفین کی کتب سے معلوم کیا جائے کہ وہ کس کس زمانہ میں مسلمانوں کے جبر کے متعلق مضامین لکھ چکے ہیں کن زمانوں کو ایسی کوششوں سے پاک بتاتے ہیں اور کن بادشاہوں کو غیر متعصب قرار دیتے ہیں پھر دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھا جائے کہ جس وقت یہ لوگ مسلمان ہوئے تھے۔اس وقت کون سی حکومت اور کون بادشاہ تھا اگر یہ ثابت ہو جائے اور یہی بات اند از امعلوم ہوتی ہے کہ اس وقت اسلامی حکومت کمزور تھی اور ہندو راجاؤں کا زور تھا یا یہ کہ وہ اکبر اور جہانگیر کا زمانہ تھاتو پھر بتایا جائے کہ اس زمانہ میں اگر اس قدر کثرت سے لوگ جبراً مسلمان بنائے جاتے تو اس کا تاریخ میں ثبوت ہونا چاہئے تھا بر خلاف اس کے اس وقت یا تو مسلمانوں کا زور تھا ہی نہیں بلکہ وہ کمزور تھے یا یہ کہ اس وقت کے بادشاہوں کو بھی جابر نہیں کہتے پھر کس طرح ممکن ہے کہ اتنی بڑی تعداد ان کے زمانہ میں جبرا مسلمان بنائی گئی جو دوسرے بقول تمہارے جابر بادشاہوں کے زمانہ میں بھی نہیں بنائی گئی۔