تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 330 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 330

تاریخ احمدیت جلد ۴ 322 خلافت ثانیه کانواں سال ۲۱۴ سلسلہ احمدیہ صفحہ ۳۷۳-۱۳۷۴ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے) ۲۱۵ - الفضل 11 جنوری ۱۹۲۴ء صفحه ۹ ۲۱۶- گیائی صاحب موصوف جو ۱۹۲۸ء سے اس وقت تک سلسلہ کی تقریری و تحریری خدمات میں مصروف ہیں۔۱۹۲۶ء میں داخل احمدیت ہوئے تھے۔۲۱۷ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۲۰۱-۲۰۴ ۲۱۸- "جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صلح ۵۲ از حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال) ۱۹ - الفضل ۲ مئی ۱۹۲۲ء صفحه ۱ -۲۲۰ الفضل ۴ ستمبر ۱۹۲۲ء صفحه ۲۸٬۲/ ۲۵ ستمبر ۱۹۲۲ء صفحہ ۰۵ ۲۲۱ الفضل ۶ نومبر ۱۹۲۳ء صفحه ۰۸۰۶ -۲۲۲ - وکالت تبشیر تحریک جدید کی طرف سے تبلیغ ہدایت کا فرانسیسی زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے اور مناسب وقت میں شائع کر دیا جائے گا۔۲۲۳۔بعد کے ایڈیشنوں میں کئی مقامات پر آپ کے قلم سے اضافہ و ترمیم ہوئی۔۲۲۴۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۷۔۲۲۵ الفضلی اجنوری ۱۹۲۳ء صفحہ 4 لجنہ کا نام حضوری کا تجویز فرمودہ ہے (الفضل ۸ فروری ۱۹۲۳ء صفحہ ۶) ۲۲۶ الازبار لذوات الخمار صفحه ۶۸-۷۲ ) مرتبہ حضرت سیده ام متین صاحبه من اشاعت اپریل ۱۹۴۶ء ۲۲۷- الفضل الجنوری ۱۹۲۳ء صفحہ ۹ ۲۲۸۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ء صفحہ ۱۸- ٢٢٩ الفضل ۸ فروری ۱۹۶۳ء صفحه ۶ ۲۳۰ الحکم ۲۱ مارچ ۱۹۹۵ء صفحہ ۳- ایضاً مصباح یکم جون ۷ ۱۹۲ء صفحہ ۱۔اس مدرسہ میں مولوی ارجمند خاں صاحب کو منطق پڑھانے اور ماسٹر محمد طفیل خان صاحب کو تاریخ و جغرافیہ پڑھانے اور ڈاکٹر شاہ نواز خان صاحب کو حفظان صحت پر لیکچر دینے کا موقعہ ملا۔ڈاکٹر صاحب موصوف کا بیان ہے کہ پردہ کے پیچھے کھڑے ہو کر ہم لیکچر دیا کرتے تھے۔مکان غالبا حضرت سارہ بیگم صاحبہ والا چوبارہ تھا۔جو مسجد مبارک کی گلی کے اوپر چھت پر ہے۔اس مدرسہ میں حضور کی بیگمات بھی طالبات کی حیثیت سے شامل ہوتی تھیں۔-۲۳۱ الفضل ۲۷ مئی ۱۹۴۷ء صفحہ ۶ مصباح ابتداء حضرت قاضی محمد ظہور الدین صاحب اکمل کی ادارت میں نکلتا تھا۔ان کے بعد مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر ایک عرصہ تک ایڈیٹر رہے۔۱۹۴۷ء سے ۱۹۶۱ء تک امتہ اللہ خورشید صاحبہ (بنت مولانا ابو العطاء صاحب سابق مبلغ بلاد عربیہ) کی زیر ادارت نکلتا رہا۔اور اب ان کی وفات کے بعد امتہ الرشید شوکت صاحبہ (الملیه جناب ملک سیف الرحمن صاحب مفتی سلسلہ احمدیہ ) اس کی مدیرہ ہیں۔۲۳۲- لائبریری کی تجویز ۱۹۲۴ء میں حضرت امتہ الحی صاحبہ کی وفات کے بعد ہوئی۔۱۹۲۵ء میں لجنہ اماءاللہ کی پر جوش کار کن حضرت ام و اور صاحبہ کی تحریک پر لائبریری کی مستمہ حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ تجویز ہو ئیں۔اور حضرت ام المومنین نے کتا بیں رکھنے کے لئے ایک الماری مستعار عنایت فرمائی۔۱۳۰ اکتوبر ۱۹۲۵ء کو مرکزی لجنہ نے فیصلہ کیا کہ لائبریری کے جمع شدہ فنڈ سے کتابیں خریدی جائیں۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد اس کی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔(ملاحظہ ہو حضرت ام طاہر صاحبہ کا مضمون مطبوعہ " مصباح ۱۵ فروری ۱۹۳۰ء صفحه ۱۷۰۱۶) ۲۳۳- رپورٹ کارگزاری لجنہ اماء الله مرکزیه از یکم اکتوبر ۱۹۲۰ء تا ستمبر ۱۹۶۱ء صفحه 11 ۲۳۴- مصباح یکم اگست ۱۹۲۸ء صفحه ۲- ۲۳۵- مصباح ۱۵- اپریل ۱۹۳۸ء صفحه ۳- -٢٣٦- الفضل ۲۹ اپریل ۱۹۴۴ء صفحه ۳ ۲۳۷- مصباح مارچ ۱۹۴۶ء صفحه ۱۷