تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 287 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 287

تاریخ احمدیت جلد ۴ 279 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال بیت مبارک میں ہی تھا کہ حضرت صاحب زادہ مرزا شریف احمد صاحب سے ملاقات ہوئی۔آپ نے مجھے سے علیحدگی میں فرمایا کہ عبد الکریم لوہار جو ان دنوں سیویوں کی مشین بنایا کرتے تھے ان کو بلالا ئیں۔وہ اپنے ساتھ ایسا سامان لے آئیں جس سے بیت مبارک چھلی طرف کی کھڑکیوں کی سیخیں کائی جاسکیں تاکہ اگر مخالفین دار مسیح پر کسی قسم کا حملہ کریں تو ان کھڑکیوں کے ذریعہ مرزا گل محمد صاحب کی حویلی میں بچوں اور عورتوں کو حفاظت کے لئے بھیجا جا سکے۔آپ کے حکم پر میں مذکورہ لوہار کی دکان پر پہنچا تو اس نے میرے ساتھ آنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے بہت کام ہے۔میں وہاں نہیں جا سکتا۔جب میں نے اس سے اوزار مانگے کہ میں خود ہی سیٹیں کاٹ کر اوزار واپس کردوں گا تو اس نے اوزار دینے سے بھی انکار کر دیا اس پر میں مایوس ہو کر واپس آیا تو بیت مبارک میں مجھے کوئی شخص نہ ملا۔اسی روز احرار گاڑی میں متواتر پہنچ رہے تھے اور یوں معلوم ہو تا تھا کہ تمام ہندوستان کے احرار آرہے ہیں۔بٹالہ سے ان کے قافلے پیدل اور ٹانگوں پر قادیان روانہ ہوئے۔مولوی ثناء اللہ وغیرہ بھی ان میں تھے۔تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان کے بد ارادوں کی خبریں جو وہ اپنی باتوں میں بیان کرتے تھے قادیان پہنچتی رہیں ہمارے نوجوانوں نے ایسی سکیم تیار کرلی تھی جس کے تحت وہ بٹالہ میں بہت جمع ہو چکے تھے وہ ہر قافلہ میں دو دو تین تین شامل ہو جاتے اور چونکہ گرمی کے دن تھے وہ ہاتھوں میں پنکھے لے کر آگے بڑھ جاتے اور ہر قافلہ میں جو مولوی ہوتے ان کو پنکھا کرتے اور ان کی باتیں سن لیتے اور پھر پنکھا اپنے دوسرے ساتھی کے حوالے کر کے واپس قادیان جا کر بیان کرتے۔اس طرح ان کی تمام باتیں قادیان میں قبل از وقت پہنچتی رہیں۔اس دن انہوں نے پہنچ کر ہندوؤں کے ایک مکان میں تقریریں کیں۔وہاں بھی ہمارے خاص خاص نوجوانوں کو ہی جانے کا حکم تھا جو وہاں سے رپورٹیں لے کر آتے تھے۔دو سرے دن ان کا اس قدر ہجوم تھا کہ حضرت صاحب کے حکم سے ایک فوٹو گرافر کو منارۃ المسیح کے اوپر جا کر کیمرہ سے فوٹو لینے کو کہا گیا۔کیوں کہ وہ دن اور دھوپ کا وقت تھا اور احراریوں کی نظریں منارة المسیح پر بدنیتی سے پڑ رہی تھیں جب فوٹو گرافر نے وہاں جا کر کیمرہ نصب کیا تو ان لوگوں نے دیکھا اور بعض نے تو ان میں سے یہ کہنا شروع کیا کہ دیکھو وہ منارۃ المسیح پر مشین گن لگ گئی۔اسی دن حضرت میر محمد اسماعیل (صاحب) سول سرجن نے مجھے جب مسجد مبارک میں دیکھا تو فرمایا کہ آپ چونکہ ملٹری کے آدمی ہیں آپ سے کچھ سوالات کرتا ہوں۔آپ اس کا جواب دے دیں۔اس کے بعد میں کوئی کام آپ کے حوالے کردوں گا۔جو آپ کو کرنا ہو گا۔میں نے لبیک کہا تو آپ نے سب سے پہلے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آپ نے فرسٹ ایڈ کی تعلیم حاصل کی ہے۔میں نے جواب اثبات میں دیا۔پھر آپ نے سوال کیا کہ آپ فیلڈ ایمبولنس کی ٹریننگ بھی رکھتے ہیں جس میں زخمیوں کو اٹھا کر ہسپتال پہنچانے کی ٹریننگ ہوتی ہے۔رنے وہاں سے