تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 277 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 277

تاریخ احمد بیت - جلد ۴ 269 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال جماعت کی طرف سے مبلغ آیا جو زندہ اسلام پیش کرتی ہے۔میری آنکھوں نے مسیح موعود کو دیکھا۔میرے کانوں نے اس کے مقدس منہ سے نکلے ہوئے الفاظ سنے۔میرے ہاتھوں نے اس برگزیدہ پہلوان اسلام کے پاؤں کو چھوا۔پس تم کو مبارک ہو کہ خدا نے تمہاری مدد کی۔اب انشاء اللہ فینٹی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کا کام احمدی جماعت کرے گی۔۱۸ مارچ ۱۹۲۱ء کو اکر انوں میں دوسرا جلسہ منعقد ہوا جس میں آپ نے دو گھنٹہ تقریر فرمائی۔اور نینٹی قوم اور ان کے چیف کو جماعت احمدیہ میں شامل ہونے اور گذشتہ رسوم و رواج کو ترک کر کے بچے اور مخلص مسلمان بننے کی تلقین فرمائی۔چنانچہ دوسرے ہی دن ان کی مجلس اکابر نے فیصلہ کیا کہ ہم سب لوگ اپنی جماعتوں سمیت احمدیت میں داخل ہوتے ہیں۔اس طرح ایک ہی دن میں ہزاروں لوگ سلسلہ احمدیہ میں شامل ہو گئے اور یدخلون فی دین اللہ افواجا کانظارہ آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔AL A1 فینٹی قوم کے احمدی ہونے کے بعد حضرت مولانا نیر صاحب نے نائیجیریا کی طرف توجہ مبذول فرمائی چنانچہ پہلی بار آپ بذریعہ جہاز ۱۸ اپریل ۱۹۲۱ء که نائیجیریا کے صدر مقام لیگوس میں پہنچے۔لیگوس میں ان دنوں ۳۵ ہزار کے قریب مسلمان تھے۔اور ۲۰ ہزار کے قریب عیسائی مگر علم دولت تجارت اور سرکاری عہدے سب عیسائیوں کے ہاتھ میں تھے۔اور جہاں عیسائیوں کے چالیس مدارس تھے وہاں مسلمانوں کا صرف ایک (محمدن اسکول) تھا۔ان حالات میں حضرت مولانا نیر نے لیگوس میں قدم رکھا اور پہنچتے ہی مختلف مساجد میں لیکچر دیئے۔پھر پبلک لیکچروں کا ایک باقاعدہ سلسلہ شروع کر دیا جس سے سعید رد میں احمدیت کی طرف کشاں کشاں آنے لگیں۔ماحول کے اثر سے لیگوس کے مسلمانوں میں یہ رسم قائم ہو چکی تھی۔کہ وہ دوسرے کا ادب و احترام کرنے کی خاطر فور اگھٹنوں کے بل ہو جاتے تھے حضرت مولانا نیر صاحب نے اس کے خلاف زبردست وعظ کی جس پر بہت سے مسلمانوں نے یہ رسم چھوڑ دی لیگوس میں ایک فرقہ اہل قرآن بھی تھا۔اس کے بارہ اکابر نے حضرت مولانا نیر صاحب سے ملاقات کی اور بتایا کہ بارہ برس ہوئے ہمارے سابق امام جماعت نے مرنے ت پہلے یہ خوشخبری دی تھی کہ ایک سفید رنگ کا آدمی (White man) آئے گا جو مسیح موعود کی خبر لائے گا۔اور اہل قرآن کی تصدیق کرے گا یہ پیشگوئی آپ کے وجود سے پوری ہوئی ہم آپ کے ساتھ ہیں۔چنانچہ ان اکابر میں تے جنہوں نے مولانا نیر کے ہاتھ پر بیعت کی۔الفا عبد القادر بھی ایک بزرگ تھے افسوس چند ماہ بعد ہی ان کا انتقال ہو گیا۔مولانا نیر نے پرنس الیکو سلطان لیگوس کو ان کے |47 محل میں جاکر تبلیغ کی۔||