تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 276 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 276

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 268 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال چار بجے شام گولڈ کوسٹ (غانا) کی بندرگاہ سالٹ پانڈ پر اترے اور مسٹر عبد الرحمان پیڈرو کے مکان پر قیام پذیر ہوئے۔گولڈ کوسٹ عملاً عیسائیت کا مرکز تھا۔جہاں شمالی اور جنوبی نائیجیریا اور وسط افریقہ کے کچھ لوگ آباد ہو گئے تھے۔اور اصل باشندوں میں صرف نینٹی قوم مسلمان تھی جس کے چیف (امیر) کا نام مہدی تھا۔جس رات حضرت نیر صاحب سالٹ پانڈ پہنچے اسی رات مہدی نے خواب میں دیکھا کہ میرے کمرے میں رسول خدا ان تشریف لائے ہیں۔چیف مهدی ۴۵ برس سے مسلمان تھے۔اور اس وقت سے برابر تبلیغ اسلام میں مصروف تھے انہیں یہ از حد غم تھا کہ میری آنکھیں بند ہوتے ہی کہیں اس علاقہ کے مسلمان سفید عیسائی مشنریوں کے رعب میں آکر اسلام کو خیر باد نہ کہہ دیں۔چیف مہدی نے جو نہایت خدا پرست بزرگ تھے کیپ کوسٹ کے ایک شامی مسلمان سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کا پتہ معلوم کیا۔اور کچھ روپیہ جمع کر کے ان کو لنڈن بھجوایا تا مسلمانوں کا کوئی سفید فام مبلغ گولڈ کوسٹ آئے اور تبلیغ کا کام شروع کرے مگر دو سال تک کوئی مبلغ افریقہ کی طرف نہ بھجوایا جاسکا۔نتیجہ یہ ہوا کہ عوام میں یہاں تک سخت بد گمانی پیدا ہو گئی حتی کہ وہ کہنے لگے کہ سفید آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتے۔2 حضرت نیر صاحب نے میرالیون اور سکنڈی سے اپنی آمد کے تار دیئے تو اسی وجہ سے ان پر بھی چنداں اعتبار نہ کیا گیا۔البتہ آپ کے سالٹ پانڈ پہنچنے پر پہلے بعض آدمی مختلف دیہات سے خبر کی تصدیق کے لئے پہنچے۔پھر چیف مہدی صاحب کا نقیب آپ سے آکر ملا اورا امارچ ۱۹۲۱ء کو اکر افول میں فیٹی مسلمانوں کا جلسہ مقرر ہوا۔مولانا نیر صاحب ترجمان کے ساتھ بذریعہ موٹر وہاں پہنچے چیف مہدی کے مکان کے سامنے پانچصد افراد کا مجمع تھا۔چیف مہدی اپنے قومی لباس پہنے حلقہ امراء میں بیٹھے تھے۔مولانا نیر صاحب کے لئے دوسری طرف میز لگایا گیا۔آپ کا ترجمان اور ائمہ مساجد آپ کے ارد گرد تھے۔نقیب نے عصائے منصب ہاتھ میں لے کر چیف اور اس کے ممبروں کی طرف سے خوش آمدید کہا۔پھر خود چیف مہدی نے تقریر کی۔کہ ۴۵ برس ہوئے میں مسلمان ہوا۔مجھے صرف اللہ اکبر آتا تھا۔اور یہی میرے ساتھ کے دوسرے مسلمان جانتے تھے۔ہو سا قوم اور لیگوس کے لوگ بعد میں آئے اور ہمیں اسلام سکھایا۔ہم جاہل ہیں۔اسلام کا پورا علم نہیں۔سفید آدمی مسیحیت سکھانے آتے ہیں۔میں بوڑھا ہوں مجھے فکر تھی کہ میرے بعد یہ مسلمان مسلمان رہیں میں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میری زندگی میں آپ آگئے۔ACT اور اب یہ مسلمان آپ کے سپرد ہیں ان کو انگریزی و عربی پڑھائی جائے اور دین سکھایا جائے۔اس کے بعد مولا نا نیر صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری دستگیری کی اور اس