تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 275
تاریخ احمدیت جلد ۴ 267 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال تاریک بر اعظم اسلام و احمدیت کے نیر اعظم کی ضیا پاشیوں سے منور ہونے لگا۔حضرت خلیفتہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالے کو افریقہ میں تبلیغ کی تحریک کیسے ہوئی؟ یہ ایک نہایت ایمان افروز بات ہے جس کی تفصیل خود حضرت اقدس کے قلم سے درج کرتا ہوں فرماتے ہیں۔" مجھے افریقہ میں تبلیغ اسلام کی ابتدائی تحریک در حقیقت اس وجہ سے ہوئی کہ میں نے ایک دفعہ حدیث میں بڑھا کہ حبشہ سے ایک شخص اٹھے گا جو عرب پر حملہ کرے گا۔اور مکہ مکرمہ کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گا۔جب میں نے یہ حدیث پڑھی اسی وقت میرے دل میں یہ تحریک پیدا ہوئی کہ اس علاقہ کو مسلمان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ یہ انذاری خبر اللہ تعالیٰ کے فضل سے مل جائے اور مکہ مکرمہ پر حملہ کا کوئی خطرہ باقی نہ رہے۔میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہمیں بعض دفعہ منذر رویاء آتا ہے تو ہم فورا صدقہ کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر کسی کی موت کی خبر ہمیں ہوتی ہے تو وہ صدقہ کے ذریعہ مل جاتی ہے۔اور صدقہ کے ذریعہ موت کی خبریں مل سکتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اگر افریقہ کے لوگوں کو مسلمان بنا لیا جائے تو وہ خطرہ جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے۔نہ مل سکے۔چنانچہ میرے دل میں بڑے زور سے تحریک پیدا ہوئی کہ افریقہ کے لوگوں کو مسلمان بنانا چاہئے۔اسی بنا پرا فریقہ میں احمدیہ مشن قائم کئے گئے ہیں بے شک خدا تعالے نے بعد میں اور بھی سامان ایسے پیدا کر دئے جن سے افریقہ میں تبلیغ اسلام کا کام زیادہ سے زیادہ مستحکم ہو تا چلا گیا مگر اصل بنیاد افریقہ کی تبلیغ کی ہیں ، بہٹ تھی کہ افریقہ سے ایک شخص اٹھے گا جو عرب پر حملہ کرے گا اور خانہ کعبہ کو گرانے کی کو شش کرے گا۔(نعوذ باللہ ) میں نے اللہ تعالٰی پر توکل کرتے ہوئے اس کے فضلوں کی امید میں بچاہا کہ پیشتر اس کے کہ :ہ شخص پیدا ہو جس کا احادیث میں ذکر آتا ہے ہم افریقہ کو مسلمان بنالیں اور بجائے اس کے کہ افریقہ کا کوئی شخص مکہ مکرمہ کو گرانے کا موجب بنے وہ لوگ اس کی عظمت کو قائم کرنے اور اس کی شہرت کو بڑھانے کا موجب بن جائیں۔" حضرت خلیفتہ المسیح نے افریقہ میں پہلا مشن قائم کرنے کے لئے حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب نیر کا انتخاب فرمایا۔جو ان دنوں لندن میں فریضہ تبلیغ ادا کر رہے تھے۔چنانچہ مولانا نیر صاحب ۱۹ فروری ۱۹۲۱ ، کولندن سے روانہ ہوئے اور 19 فروری ۱۹۲۱ء کو سیرالیون پہ ہے۔تختہ جہاز پرمست نیر الدین افسر تعلیم سیرالیون نے آپ کا استقبال کیا۔۲۰ فروری ۱۹۲۱ء کو مسلمانوں کے متقائی مدارس اور مسجد میں آپ نے چار لیکچر دیئے۔آخری تقریر کے بعد جو عیسائیوں کے لئے مخصوص تھی سوال و جواب بھی ہوئے ۲۱ فروری ۱۹۲۱ء کی صبح کو آپ نے سرکاری حکام سے ملاقات کر کے مسلمانوں کی تعلیمی حالت کی طرف توجہ دلائی اور اسی روز تیرے پر جہاز پر سوار ہو کر ۲۸ فروری ۱۹۲۱ء کو ساڑھے