تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 274
فصل دوم 266 خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال خلافت ثانیہ کا آٹھواں سال (جنوری ۱۹۲۱ء تا دسمبر ۱۹۲۱ء بمطابق ربیع الآخر ۱۳۳۹ھ تا جمادی الاول ۱۳۲۰ھ ) حضرت علیہ السیح ثانی ایدہ اللہ نے ۲۳ ہندو مسلم اتحاد کے لئے ایک اہم تجویز جنوری ۱۹۶۱ء کو ہندومسلم اتحاد کے سلسلہ میں پہلی بار یہ تجویز فرمائی کہ آریہ صاحبان اپنے ہیں (۲۰) طلبہ یا کم و بیش جتنے مناسب سمجھیں ہمارے پاس بھیج دیں ان کا خرچ ہم برداشت کریں گے اور ان کو قرآن شریف پڑھائیں گے اس کے مقابلہ میں آریہ صاحبان ہمارے صرف دو آدمیوں کو سنسکرت پڑھا دیں۔اور دیدوں کا ماہر بنا دیں اور ان کا خرچ بھی ہمارے ذمہ ہو گا۔مگر افسوس آریہ صاحبان سے آجتک اس طرف توجہ نہیں ہو سکی۔حضور نے اگلے سال ۱۹۲۲ء میں گورو کل کا نگری کے بعض ہندو طلباء کے سامنے یہ تجویز بیان فرمائی تو ایک ہندو طالب علم جو گند ریال) اس کی معقولیت سے متاثر ہو کر خود بخود قادیان آگئے اور بالآخر مشرف باسلام ہوئے جن کا اسلامی نام محمد عمر ر کھا گیا۔۲۶ جنوری ۱۹۲۱ء کو حضور نے بورڈنگ مدرسه ہدایات زریں برائے احمدی مبلغین" احمدیہ میں جماعت کے مبلغین اور مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے سامنے تقریر فرمائی جس میں مبلغین کو نہایت قیمتی ہدایات دیں پوری تقریر حضرت میر قاسم علی صاحب نے ہدایات زریں" کے نام سے شائع کر دی تھی۔حضور کی ان ہدایات کا خلاصہ یہ تھا کہ مبلغ کو بے غرض دلیر ہمد رد خلائق، وسیع المعلومات نظافت پسند - با اخلاق - تهجد گذار - دعا گو بے نفس ، غیر جانبدار ، منتظم، سوشل تعلقات میں ماہر اور ایثار و قناعت کا مجسمہ ہونا چاہئے۔دار التبلیغ گولڈ کوسٹ (غانا) اور نائیجیریا کا قیام اس سال افریقہ میں پہلے مستقل دار التبلیغ کا قیام عمل میں آیا۔اور یہ