تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 272
تاریخ احمدیت جلد ۴ 264 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال مولوی سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی جنہوں نے تحریک خلافت کے دوران سیرت گاندھی تصنیف کی تھی۔تحریک کے انجام پر ان الفاظ میں روشنی ڈالتے ہیں۔مسلمانوں میں ایسا انتشار پیدا ہو گیا تھا کہ ان کا کوئی حقیقی رہنما یا لیڈر ایسا نہ تھا جس پر وہ پوری طرح اعتماد کر سکیں۔دوسری طرف ان حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوؤں کے عزائم بھی کھل کر سامنے آگئے تھے۔ان کے مفادات کی نمائندگی گاندھی جی کر رہے تھے۔مسلمان ان پر اعتماد رکھتے تھے حالانکہ وہ ان کے بالکل کام کے نہ تھے اور فائدہ کی بجائے نقصان ہی پہنچا سکتے تھے۔اور پہنچایا۔تحریک خلافت کے علمبردار حضرات خلیفہ کی معزولی پر پہلے تو مصطفے کمال پاشا کو گالیاں دیتے تھے۔مگر جب کچھ وقت گذر گیا۔تو معزول شدہ خلیفہ کو سخت ست کہنے لگے چنانچہ خود مولانا آزاد صاحب نے بھی جو مسلمانوں میں خلافت ترکی کے سب سے زیادہ سرگرم مبلغ تھے۔خلیفتہ المسلمین کے خلاف یہاں تک لکھا کہ خلیفہ قطعا بے کار تھا۔وہ قسطنطنیہ کے ایک قصر میں رہتا تھا۔دس ہزار پونڈ اس کا وظیفہ تھا۔اور اگر کوئی مشغولیت تھی تو صرف یہ کہ جمعہ کے دن جلوس سلاملق کے ساتھ ادائے نماز کے لئے مسجد چلا جائے گویا یہ خلافت محض نام اور تنخواہ کی خلافت تھی جس کو دس ہزار پاؤنڈ ملیں اور جمعہ کے دن سلا ملق کے ساتھ نکلے وہی خلیفہ ہے - EI ملائکہ ملا ئک اللہ حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ تعالٰی نے ۱۹۲۰ء کے سالانہ جلسہ میں جو ایمان افروز تقریریں فرما ئیں۔وہ ملا ئکتہ اللہ کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ان تقریروں میں جماعت کو نہایت قیمتی اور اہم ہدایات دینے کے علاوہ ملائکۃ اللہ کے دقیق و لطیف مضمون پر ایسی صاف و شفاف اور ایسی بصیرت افروز و تسکین بخش روشنی ڈالی کہ دل عش عش اور روح وجد کرنے لگی ملائکہ کی حقیقت ، ضرورت۔ان کے فرائض و خدمات بیان فرمائے ان کے وجود پر ہو سکنے والے شبہات و اعتراضات کے کافی و شافی جوابات دیئے۔اور آخر میں ان سے تعلق پیدا کرنے کے متعدد ذرائع بتائے۔۱۹۲۰ء کے متفرق مگر اہم واقعات (1) حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کے حرم اول میں صاجزادی امتہ العزیز بیگم صاحبہ اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے ہاں چوتھے فرزند مرزا مبشر احمد (اول) پیدا ہوئے۔۲ خان محمد عبد الرحیم خان صاحب ابن) حضرت نواب محمد علی خانصاحب) بیرسٹری کے لئے انگلستان روانہ ہوئے۔الفضل نے حضرت مسیح موعود کے پرانے خدام کے سوانح اور حالات زندگی محفوظ کرنے کی پہلی تحریک کی۔!