تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 266 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 266

تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 258 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال • مسلمان ہندوستان کو چھوڑ کر کہیں جاسکتے ہیں؟ - جہاد کی نسبت وضاحت فرمائی کہ ایک حکومت کو با قاعدہ تسلیم کر کے اس میں رہنے کے بعد اس کے خلاف علم جہاد بلند نہیں کیا جاسکتا۔- تحریک عدم موالات کے نتائج پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے صاف اور واضح لفظوں میں انتباہ فرمایا کہ سوائے اس کے کہ اس فیصلہ سے لاکھوں مسلمان اپنی روزی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور تعلیم سے محروم ہو جائیں اور اپنے حقوق کو جو بوجہ مسلمانوں کے سرکاری ملازمتوں میں کم ہونے کے پہلے ہی تلف ہو رہے ہیں۔اور زیادہ خطرہ میں ڈال دیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا"۔مضمون کے دوسرے حصہ میں حضور نے مسلمانوں کو مستقبل کے لئے ایک عملی پروگرام بنانے کی طرف توجہ دلائی اور تجویز پیش کی کہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی و بہبود کے لئے بلا تاخیر ایک عالمگیر لجنہ اسلامیہ (یعنی موتمر اسلامی) قائم ہو جانی چاہئے۔آخر میں مسلمانوں کو اسلام کے درخشندہ اور روشن مستقبل کی خبر دیتے ہوئے تحریر فرمایا یہ آخری صدمہ واقعہ میں آخری صدمہ ہے اب اسلام کے بڑھنے کے دن شروع ہوتے ہیں اور اب ہم دیکھیں گے کہ مسیحی کیونکر اس کی بڑھتی ہوئی رد کو روکتے ہیں خدا کی غیرت اس کے مامور کے ذریعہ ظاہر ہو چکی ہے۔اور اب سب دنیا دیکھ لے گی۔کہ آئندہ اسلام مسیحیت کو کھانا شروع کر دے گا۔اور دنیا کا آئندہ مذہب وہی مذہب ہو گا جو اس وقت سب سے کمزور مذہب سمجھا جاتا ہے۔خلیفہ المسیح جولائی ۱۹۲۰ء میں حضرت خلیفتہ المسیح حضرت خلیفہ المسیح کا پیغام احمدی قوم کے نام انسانی نے جماعت احمدیہ کو اپنے پیغام میں مدرسہ احمدیہ کی ترقی و بہبود کے لئے اپنے بچے بھجوانے اور مالی اعانت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا۔مدرسہ احمدیہ تمہاری عملی جدوجہد کا نقطہ مرکزی ہے اور اس کی کامیابی پر اس امر کا فیصلہ ٹھہرا ہے کہ آئندہ سلسلہ کی تبلیغ جاری رکھی جاسکے گی یا نہیں۔اس پیغام پر کئی مخلصین جماعت نے اپنے نو نہال اس اہم درسگاہ میں داخل کرا دیئے اور مدرسہ کے طلبہ میں نمایاں اضافہ ہو گیا۔مسجد لندن کے لئے زمین کی خرید پر خوشی کی تقریب حضرت امیرالمومنین خلیفہ المسیح ایدہ اللہ تعالی ۳۱ جولائی ۱۹۲۰ء کو دھرم سالہ تشریف لے گئے اور ۲۷ ستمبر ۱۹۲۰ء کو واپس قادیان آئے اس سفر کا ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ مسجد احمد یہ لنڈن کے لئے قطعہ زمین کی اطلاع ملنے پر 9 ستمبر کو ایک پُر مسرت تقریب منعقد ہوئی جس میں حضرت خلیفہ مسیح کے حکم سے قریباً تمام رفقاء سفر ( مثال صاحبزادہ مرزا بشیر احمد