تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 265 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 265

تاریخ احمدیت جلد ۴ 257 خلافت ثانیہ کا ساتواں سال لئے کھڑے ہو گئے اور کھڑے ہیں ان کے متعلق خود حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کا ارشاد پیش کر دینا زیادہ انسب و اوٹی ہے حضور نے فرمایا ” حافظ روشن علی صاحب وفات پا گئے تو اس وقت اللہ تعالی نے فورا مولوی ابو العطاء صاحب اور مولوی جلال الدین صاحب شمس کو کھڑا کر دیا اور جماعت نے محسوس کیا کہ یہ پہلوں کے علمی لحاظ سے قائم مقام ہیں"۔پھر ۱۹۵۶ء میں فرمایا۔” یہ نہ سمجھو کہ اب وہ خالد نہیں ہیں اب ہماری جماعت میں اس سے زیادہ خالد موجود ہیں چنانچہ (مولوی جلال الدین صاحب ناقل) شمس صاحب ہیں۔مولوی ابو العطاء صاحب ہیں۔عبد الرحمان صاحب خادم ہیں"۔" فاتح اتحادی ملکوں نے ترکی سے جو معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ " شرائط صلح طے کیں وہ انتہا درجہ کی ذلت آمیز تھیں۔ترکی سلطنت کے حصے بخرے کر دیئے گئے فلسطین، عراق ، عرب اور شام کو آزاد و خود مختار سلطنتیں قرار دے کر ان پر برطانیہ کی عملداری قائم کر دی گئی اور حجاز پر شریف حسین مکہ کی بادشاہت تسلیم کرلی گئی اور مصر کی کے حقوق و اختیارات سے آزاد کر دیا گیا۔شرائط نامہ میں لڑکی کی بحری اور بری اور ہوائی افواج بھی نہایت درجہ محدود کر دی گئیں۔اس کے علاوہ اور بھی سخت شرائط اور پابندیاں لگادی گئیں۔اس معاہدہ کے سلسلہ میں آئندہ طریق عمل سوچنے کے لئے کم و ۲ جون ۱۹۲۰ء کو الہ آباد میں خلافت کمیٹی کے تحت 3 کا نفرنس منعقد کی گئی۔جمعیتہ العلماء ہند BI کے مشہور لیڈر جناب مولانا عبد الباری صاحب فرنگی محل کی دعوت پر حضور نے ایک مضمون معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ کے عنوان سے ایک دن میں رقم فرمایا اور اسے راتوں رات چھپوا کر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے ذریعہ بھیجوا دیا۔ان کے ساتھ چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب بھی تشریف لے گئے۔اس مضمون میں حضور نے اپنا نقطہ نگاہ بدلائل واضح فرمایا کہ ”میرے نزدیک اس معاہدہ کی کئی شرائط میں حقوق کا اتلاف ہوا ہے اس کے بعد لکھا کہ مسلمانوں کے سامنے کئی آراء پیش کی جارہی ہیں۔بعض نے ہجرت کی تجویز پیش کی ہے بعض نے جہاد عام کو پسند کیا ہے بعض نے قطع تعلقی عدم موالات کی پالیسی کو سراہا ہے۔مگر میرے نزدیک یہ سب تجاویز نادرست اور نا قابل عمل ہیں چنانچہ حضور نے تینوں تجاویز کا مفصل جائزہ لیا۔ا۔ہجرت کے بارے میں بتایا کہ شرعاً ہجرت کا یہ کوئی موقعہ نہیں ہے اور ہندوستان کے سات کروڑ