تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 187 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 187

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 179 خلافت ثانیه کارد سرا سال ابتداء میں جب انگریزی حکومت نے جماعت احمدیہ کی طرف سے اہم میموریل مسلمانوں سے دریافت کیا۔کہ تمہارے مقدمات وراثت کا فیصلہ رواج پر ہو یا شریعت پر۔تو بعض نے رواج لکھوایا اور بعض نے شریعت۔ہر قوم کے رواج الگ الگ تھے۔اس لئے مقدمات بہت طول کھینچنے لگے۔کیونکہ ہر شخص اپنے آپ کو کسی ذاتی فائدے کے لئے ایک خاص رواج کا پابند قرار دیتا جس پر بالآخر حکومت نے تجویز کی کہ تمام قوموں کے رواج کی ایک کتاب لکھی جائے اور جو رواج اس میں درج ہوں وہی قانون قرار دیئے جائیں۔اور ان کے سوا کچھ مسلم نہ ہو۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اکتوبر ۱۹۱۵ء میں جماعت احمدیہ کو ارشاد فرمایا کہ انہیں حکومت کو میموریل بھیجنے چاہئیں۔کہ ہم خواہ کسی قسم یا ذات یا خاندان سے ہوں ہم احمدی ہیں اور شریعت کے تابع ہیں اور ہمارا عمل در آمد شریعت اسلامیہ ہے پس ہمارے مقدمات شرع کے مطابق فیصل ہوا کریں۔جو مسئله اسلامی فرقوں میں متنازعہ فیہ ہو اس میں احمدی علماء کی رائے معتبر مانی جائے۔چنانچہ جماعت نے اس کی پوری پوری تعمیل کی اور کو جماعت احمدیہ کا اکثر و بیشتر حصہ پہلے ہی رواج پنجاب کی بندھنوں سے آزاد اور احکام اسلامی کا پابند تھا مگر میموریل کے ذریعہ سے انگریزی حکومت پر بھی واضح ہو گیا کہ یہ جماعت رواج کی بجائے اسلامی شریعت کو اپنا آئین سمجھتی ہے لیکن اس کے مقابل (ایک قلیل طبقہ کے سوا) مسلمانوں کے سواد اعظم نے شریعت پر رواج کو ترجیح دی۔ڈبلیو ایچ رینگین نے رواج عام پنجاب کی مشہور اور مستند ترین کتاب The digest of" "Customary law میں لکھا ہے کہ "The family of the Mughal Barlas of Qadian Tehsil Batala is governed - by Muhammdan Law" M یعنی قادیان کا مغل برلاس خاندان رواج زمیندارہ کا نہیں بلکہ قانون شریعت کا پابند ہے۔۱۱/ نومبر ۱۹۱۵ء کو مولوی عبدالحی صاحب (ابن مولوی عبدالحی صاحب کی وفات حضرت خلیفہ اول) کا انتقال ہوا۔آپ کی وفات پر کثیر التعداد تعزیت ناموں کے علاوہ کئی احباب بیرون سے تعزیت کے لئے آئے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے چودھری فتح محمد صاحب سیال مبلغ انگلستان کو مولوی صاحب کی وفات کی نسبت اطلاع دیتے ہوئے لکھا۔”عزیز میاں عبدالحی کو دو ہفتہ بخار رہا۔اور گو سخت تھا لیکن حالت مایوسی کی نہ تھی۔مگر پچھلی جمعرات کو یک لخت حالت بگڑ گئی۔اور ایک رات اور کچھ حصہ دن کا بیہوش رہ کر عصر کے قریب اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔اناللہ وانا اليه راجعون۔۔۔قریباً اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچ