تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 176
تاریخ احمدیت جلد ۴ تھی۔168 خلافت ثانیه کادو سرا سال اس رسالہ میں ان لوگوں کی شہادتیں درج فرمائیں جن کی طرف یہ بے بنیاد خبر منسوب کی گئی رسالہ القول الفصل " کی تصنیف پہلے سال کے واقعات میں بتایا جا چکا ہے کہ خواجہ کمال الدین صاحب نے اندرونی اختلافات سلسلہ کے اسباب پر لیکچر دیا تھا جو اسی نام سے شائع ہوا۔اس کے جواب میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۱ جنوری ۱۹۱۵ء کو القول الفصل" تصنیف فرمائی۔یہ رسالہ جو ۷۸ ر مشتمل تھا۔صرف ایک دن میں لکھا گیا تھا۔حضور نے انہی دنوں قاضی محمد یوسف صاحب صفحات : مرد ان کے نام ایک خط میں اس لاجواب رسالہ کی نسبت تحریر فرمایا کہ۔خواجہ صاحب کے رسالہ کا جواب آخر میں نے خود ہی لکھنا پسند کیا۔پہلے مفتی محمد صادق صاحب کے سپرد کیا تھا انہوں نے بھی لکھا ہے لیکن اکیس جنوری کو میں نے جب (خواجہ صاحب کا ) وہ رسالہ پڑھا تو حیران ہو گیا۔خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ خلافت کے عقیدہ (میں) مولوی صاحب (یعنی حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول۔ناقل ) بھی ان کے ساتھ تھے۔اور شخصی حکومت (خلافت کا نام رکھا ہے) کے قائل نہ تھے جس شخص نے مولوی صاحب کی زندگی میں ان کی چھ سالہ تقریریں۔خطبے۔درس وغیرہ سنے ہوں اسے تو اس بات کو معلوم کر کے حیرت ہی ہوتی ہے میں تو حیران ہوں اس جرأت کو کیا کہوں بھول چوک اس کا نام نہیں رکھا جا سکتا۔غلطی اسے نہیں کہہ سکتے گھنٹوں اس بارہ میں مجھ سے حضرت (خلیفہ اول) نے گفتگو فرمائی ہے۔ہر درس میں جہاں کوئی بھی خلافت (کا) ذکر آجاتا تو خلافت کے منکرین پر لے دے کرتے۔مگر آج وہ کہا جاتا ہے۔جو کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔خواجہ صاحب کے رسالہ کے جواب میں جو مضمون میں نے لکھا ہے اس میں ظلی نبوت پر کافی بحث ہے۔اصل یہ ہے کہ یہ لوگ کہتے تو ہماری طرح ہی ظلی نبی ہیں لیکن اس کے معنی ایسے کر دیتے ہیں کہ اس سے نبی صرف نام رہ جاتا ہے، کام نہیں رہتا۔میرا یہ عقیدہ ہے کہ آپ نبی تھے لیکن امتی نبی ، ظلی نبی، بروزی نبی۔نبی سے مراد یہ ہے کہ آپ کو وہ درجہ ملا جو نبیوں کو ملا۔وہ کام ملا جو نبیوں کے سپرد ہوا۔امتی کے معنی ہیں کہ آپ پر شریعت اسلام کی اتباغ فرض تھی اور آپ ساری عمر قرآن کریم کے پابند رہے۔ظلی بروزی سے یہ مطلب ہے کہ آپ کو جو کچھ ماوہ آنحضرت ﷺ کے طفیل اور آپ کی اتباع سے ملا۔آپ کی نبوت بلاواسطہ نہیں تھی۔بلکہ آنحضرت ﷺ کی غلامی کا نتیجہ تھی۔اور آپ آنحضرت ا کے بروز تھے کیونکہ قرآن کریم میں و آخرین منہم کی آیت میں ہمارے آنحضرت ا کے دو بعث لکھے ہیں اور حضرت صاحب لکھ گئے ہیں کہ ہر ایک مسلمان پر جس طرح اور ایمانیات کا ماننا فرض ہے ال