تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 166 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 166

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 158 خلافت ثانیہ کا پہلا سال حکومت کے لئے زندگی و موت کا سوال در پیش تھا۔اس نازک وقت میں مسلمانوں کے لئے سلطنت برطانیہ کا وفادار رہنا سب سے زیادہ مشکل تھا۔کیونکہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت جس کے بادشاہ کو تمام مسلمان اپنا امام (یعنی خلیفتہ المسلمین - ناقل) سمجھتے تھے۔برطانیہ کے خلاف بر سر پیکار تھی اور وہ ممالک اعمال جنگ کی زد میں تھے۔جن کی تعظیم و تکریم ہر مسلمان کا جزو ایمان تھی۔لیکن اس موقع پر اعلیٰ حضرت میر محبوب علی خان بہادر نے سلطنت برطانیہ کے ساتھ وہ وفادری برتی جو اس سلطنت کے تمام دوستوں کی وفاداری سے زیادہ قیمتی اور خود اعلیٰ حضرت کے پیشروؤں کی وفاداریوں پر بھی فائق تھی۔ایک طرح حضور ممدوح نے اپنے اس اخلاقی و روحانی اثر کو استعمال کیا جو انہیں ہندوستان کے مسلمانوں پر حاصل تھا اور مسلمانوں کو پورے زور کے ساتھ تلقین کی کہ وہ سلطنت برطانیہ کے مواعید پر بھروسہ کر کے اس کی وفاداری پر ثابت قدم رہیں۔یہ اخلاقی امداد اس قدر موثر ہوئی کہ خود انگریزی سلطنت کے ارباب حل و عقد کو اعتراف ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے جن اثرات کے ماتحت جنگ میں سلطنت کی امداد کی ان میں سب سے زیادہ حصہ اعلیٰ حضرت نظام دکن کا تھا سری طرف اعلیٰ حضرت نے اپنی سلطنت کے تمام ذرائع دولت برطانیہ کے لئے وقف کر دیئے اس سلسلہ میں جو انہوں نے خالص مالی امداد دی۔اس کی کیفیت ذیل کے اعداد سے ہوتی ہے (اس کے آگے تفصیلی اعداد و شمار دے کر جن کی مالیت کروڑوں روپے تک جا پہنچتی ہے لکھا ہے) کہ دوران جنگ میں سرکار عالی کے تمام کار خانے سامان حرب کی تیاری کے لئے وقف رہے اور چار سال کی مدت میں انہوں نے 9 لاکھ روپیہ کا سامان سلطنت برطانیہ کے لئے مہیا کیا۔اعلیٰ حضرت نے اپنی عزیز رعایا کو ہزاروں کی تعداد میں بھرتی کر کے میدان جنگ میں جانیں قربان کرنے کے لئے بھیجا۔آغاز جنگ سے اختتام تک دولت آصفیہ کی باضابطہ فوج جنگ کی عملی خدمات سرانجام دیتی رہیں۔اور اس کا خرچ سرکار نظام نے اپنے خزانہ سے دیا۔حکومت ہند کی شدید مشکلات کے زمانے میں ۵۰ لاکھ روپے کی چاندی کی اینٹیں مستعار دے کر اس کی مالی ساکھ کو بحال کیا۔اور اسی طرح کی بیش قیمت اور مخلصانہ امانتوں کی بدولت یہ سخت وقت سلطنت برطانیہ سے مل گیا۔جس میں اس کا برباد ہو جانا کوئی مشتبہ نہ رو ۲۰۲ ریاست حیدر آباد کے علاوہ بھوپال، لوہارو ، بلوچستان کے نوابوں نے بھی کافی امداد کی شیعان ہند کے بعض زعماء نے اعلان کیا کہ " آج کل جو جنگ یورپ میں ہو رہی ہے۔اس میں ہماری گورنمنٹ انگریزی کے مقابلہ میں سلطان لڑکی نے بھی خواہ مخواہ جرمنی کی حمایت کی ہے۔حضور ملک معظم کی گورنمنٹ نے ہر چند کوشش کی کہ سلطان لڑکی اس جنگ میں شریک نہ ہوں۔مگر تمام کوششیں