تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 151
تاریخ احمدیت ، جلد ۴ 143 کا پہلا سال (۷) دار الامان میں کالج کے قیام کی تجویز ایک بورڈ کے سپرد کی جائے جس کے ممبر زیادہ تر تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قدیم طلباء اور ماہر تعلیم اصحاب ہوں۔اس اجلاس کے وقت حضرت اقدس کے حکم سے حضرت نواب محمد علی خان صاحب سیکرٹری تھے۔یہ اجلاس نماز عصر تک جاری رہا۔اور اس پر شوری کی کارروائی ختم ہوئی 121 ۱۲ / اپریل کی شورٹی میں زیر غور آنے والی تجاویز کو عملی جامہ انجمن ترقی اسلام کی بنیاد بنانے کے لئے حضور نے ایک انجمن کی بنیاد رکھی جس کا نام اپنے ایک رڈیا کی بناء پر انجمن ترقی اسلام" رکھا اور اس کے لئے یہ ممبر نامزد فرمائے۔قمر الانبیاء حضرت صاجزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب۔حجتہ اللہ حضرت نواب محمد علی خان صاحب۔حضرت سید حامد شاہ صاحب - حضرت مولانا شیر علی صاحب۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اسٹنٹ سرجن - حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدرای ۱۵۳ - اس انجمن کے سیکرٹری حضرت مولوی شیر علی صاحب تھے۔دعوت الی الخیر فنڈ کا روپیہ بھی اس انجمن کے نام منتقل کر دیا گیا۔یہ انجمن اپنے نام کی طرح خدا کے فضل سے اسلام کی ترقی اشاعت کا نہایت موثر ذریعہ ثابت ہوئی بر صغیر پاک وہند کی اسلامی تاریخ میں اس انجمن کا نام ہمیشہ قائم رہے گا۔یہی وہ بابرکت ادارہ تھا۔جس نے ایک عرصہ تک دنیا میں تبلیغ اسلام کی ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھی۔یہاں تک کہ پہلے صد را انجمن احمدیہ اور پھر ۱۹۴۵ ء میں تحریک جدید نے بین الا قوامی سطح پر تبلیغ کا یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔حضرت فضل عمر خلیفہ ثانی ایده تبلیغ اسلام کے لئے عالمگیر نظام قائم کرنے کا اعلان اللہ تعالی نے شوری کے سامنے منصب خلافت" کے موضوع پر معرکتہ الآراء تقریر فرمائی۔اور ابراہیمی دعا و ابعث فيهم رسولا الخ کی روشنی میں نہایت لطیف پیرائے میں مقام خلافت، فرائض خلافت اور تزکیہ نفوس کے طریق پر روشنی ڈالی۔اور خلافت اور انجمن سے متعلق مسائل پر سیر حاصل بحث کی اور فرمایا۔" پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے۔اور تبلیغ سے ایسا انس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔میں