تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 94 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 94

تاریخ احمدیت۔جلد ۴ 86 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت ۲۰/ ۱۹ جنوری حضرت خلیفہ اول کی طرف سے آپ کی خلافت کی وصیت 1911ء کو حضرت خلیفہ اول نے آپ کو اپنے بعد خلیفہ نامزد فرمایا۔یہ نامزدگی ایک مخفی وصیت کی صورت میں تھی جو ایک بند لفافہ میں آپ نے اپنے ہاتھ سے لکھی جو بعد کو آپ نے خود چاک کردی تھی۔جناب مولوی محمد علی صاحب نے اپنی مولفہ کتاب "حقیقت اختلاف میں بھی اس اہم وصیت کا ذکر کیا ہے۔1911 ء کے اوائل میں آپ نے حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے " مجلس انصار اللہ " کا قیام تبلیغ و تربیت اور باہمی رابطہ اتحاد و محبت کی غرض سے ایک انجمن انصار اللہ قائم فرمائی جس کے ممبروں کا یہ فرض قرار دیا کہ وہ خدمت دین کے لئے اپنے وقت کا کچھ حصہ لازماً دیں اور لوگوں کے لئے پاک نمونہ نہیں۔چنانچہ جماعت کے بہت سے احباب نے اس انجمن کی ممبری قبول کی اور ان کے ذریعہ سے تبلیغ و تربیت کے کام میں ایک خاص ولولہ پیدا ہو گیا۔انصار اللہ میں شمولیت کے لئے آپ نے سات مرتبہ استخارہ کی شرط لازمی قرار دی ED - بعض احمدیوں کو تو استخارہ کرنے سے پہلے ہی اس میں شمولیت کی الہانا تحریک ہوئی۔چنانچہ خان محمد عجب خاں ( ہری پور ضلع ہزارہ) نے حضرت صاحبزادہ صاحب کی خدمت میں لکھا۔” دربارہ انجمن انصار اللہ عرض ہے کہ میں نے وحی اللہ سے اس انجمن کی برکات معلوم کرلی ہیں استخارہ کی حاجت نہیں اور خصوصا جبکہ حضرت خلیفتہ المسیح نے بھی اس کو منظور اور پسند فرمایا ہے پھر تو نور علی نور ہے۔درباره روی اونهارو په عرض دها کر نے وحی الہ کر رای اکین در رکات معلوم که برایش پاره کا چت نہیں کرخ سے کار حصر منظور در نه یا تا سوار خود را عملی 3 به - اور اس کی ہر وقت اور بڑی ضرورت ہے بلکہ میں تو خود اس میں یہاں کو شاں رہا اور میری رائے میں احمدی جماعت کی علت نمائی یہی ہے۔۔۔اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر و اجر عظیم عطا فرمادے کہ ہمارے ارادوں کی تکمیل کے اسباب آپ نے بہم پہنچائے۔کیونکہ یہ احمدی جماعت کے اغراض کی