تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 81 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 81

تاریخ احمدیت جلد ۴ 73 سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت کا ہو۔آخر بشر ہے اور مخلوق ہے اور ایک دن اس کے لئے مرنا ضروری ہے مگر مبارک وہ جو ان باتوں سے نصیحت پکڑے اور اپنے نفس کو شرک کی ملونی سے پاک رکھے "۔FIA سفر بیگووال حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ الصلو حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات حسرت آیات کے بعد آپ نے تبلیغ و اشاعت حق کا جہاد قلمی و لسانی دونوں صورتوں میں شروع کر دیا اور بیرونی مقامات میں جاکر تبلیغی لیکچر بھی دینے لگے چنانچہ اس سلسلہ میں آپ کا سب سے پہلا سفر جو بیگووال (ریاست کپور تھلہ) کی طرف کیا تھا۔جہاں آپ حضرت خلیفہ اول کی اجازت سے ایک شادی کے موقعہ پر گئے اور لیکچر دیا۔وسط و تمبر ۱۹۰۸ء میں آپ نے حضرت میر محمد اسحق صاحب کے ساتھ کاٹھ گڑھ کا سفر کا ٹھ گڑھ PRO سفر اختیار فرمایا جو آپ کا دوسرا تبلیغی سفر تھا۔آپ بٹالہ سے پھگواڑہ تک ریل میں گئے پھگواڑہ اسٹیشن پر حضرت حاجی حبیب الر حمن صاحب حاجی پورہ استقبال کے لئے موجود تھے آپ حاجی صاحب کی درخواست پر حاجی پورہ تشریف لے گئے اور مختصر سے قیام کے بعد وہاں سے میاں چانن صاحب احمدی برادر خورد میاں شیر محمد صاحب یکه بان کے ٹانگہ پر ہنگہ پہنچے اور میاں رحمت اللہ صاحب باغانوالہ کے مکان میں جو کو تو الی سے متصل تھا مقیم ہوئے۔شہر میں آپ کی آمد کا عام چرچا ہو گیا تھا لوگ جوق در جوق آپ کی زیارت کے لئے آنے لگے۔زائرین میں غیر مسلم بھی شامل تھے۔حضور کا بنگہ میں ایک دن دورات قیام رہا۔پھر آپ ٹانگے میں نواں شہر اور وہاں سے گھوڑی پر کاٹھ گڑھ پہنچ گئے۔بنگہ سے نواں شہر تک کے سفر میں جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے (مولف اصحاب احمد) کے والد بزرگوار جناب ملک نیاز محمد صاحب ( چپکے۔ڈی۔آر / ۱۹ ضلع منٹگمری) کو بھی ہمرکاب ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ملک نیاز محمد صاحب کا بیان ہے کہ " راہوں ضلع جالندھر میں ہمیں اطلاع ملی کہ حضرت صاحبزادہ صاحب بنگہ میں بھی قیام فرما ئیں گے میں بنگہ پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کا ٹھ گڑھ جانے کے لئے بالکل تیار ہیں۔چنانچہ احباب جماعت بنگہ کی معیت میں آپ اور حضرت میر محمد الحق صاحب سیکوں کے اڈہ پر تشریف لے گئے۔یہ میرے سامنے کا واقعہ ہے کہ وہاں حضرت بابا شیر محمد صاحب مرحوم (یکه بان) ایک نیا یکہ لے کر کھڑے تھے۔حضرت صاحبزادہ صاحب اور میر صاحب جب دوستوں سے مصافحہ کر کے ٹانگہ پر سوار ہونے لگے۔تو بابا جی نے عرض کی کہ میرا ایک خواب ہے حضور اسے پورا فرما ئیں اور وہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت مسیح موعود تشریف لائے ہیں اور میں نے حضور کو اپنے ٹانگہ میں سوار ہونے کے لئے عرض کی لیکن اس یکہ کا پائیدان نہیں تھا۔میں نے عرض کی کہ حضور میری پیٹھ پر پاؤں