تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 80 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 80

تاریخ احمدیت۔جلد پہلا باب (فصل چهارم) 72 سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے موانع حمل از خلافت خلافت اولی میں آپ کی دینی و علمی سرگرمیوں پر ایک نظر تا 24 (۱۳۲۶ھ ۱۳۳۲ھ) رمئی ۱۹۰۸ء سے مارچ ۱۹۱۴ء تک) حضرت خلیفہ اول کی بیعت بیعت خلافت اولی کے وقت آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کے دست مبارک پر سب سے پہلے بیعت کی اور خلوص دل سے آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد باندھا اور آخر دم تک اس پر قائم رہے۔پہلی تصنیف ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے " حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر مخالفین سلسلہ نے بہت زہر اگلا اور طرح طرح کے اعتراضات کئے۔آپ نے ان کے مدلل مفصل اور دندان شکن جوابات اپنی تصنیف ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے " میں شائع فرمائے جو آپ کی سب سے پہلی تصنیف ہے اور ۱۲۴ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے تمہیدی الفاظ دیکھتے ہی بخوبی اندازہ ہو سکتا ہے کہ یہ کس شان کی کتاب ہوگی۔فرماتے ہیں۔" خدا تعالی کے پاک کلام كل من عليها فان ويبقى وجه ر بک ذوالجلال والاکرام کے مطابق جو کوئی پیدا ہوا وہ فوت ہوا۔اور جو آئندہ پیدا ہو گاوہ بھی فوت ہو گا سوائے خدا کی ذات واحد کے اور کوئی نہیں جو ہمیشہ ہو اور ہمیشہ رہے۔آج سے تیرہ سو سال پہلے خدا تعالیٰ نے نبی کریم ا کو وفات دے کر اس بات کو اس طرح سے ثابت کر دیا کہ کوئی شک و شبہ کی گنجائش بھی نہیں رہی اور آج تیرہ سو سال آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود کی وفات نے خداتعالی کے کلام کی سچائی کو دنیا پر ظاہر کیا اور ثابت کر دیا کہ کوئی شخص خوا، خداتعالی کا کیساہی پیارا ہو اور کتنی ہی بڑی شان i