تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 57
تاریخ احمد برد، جلد ۲ سید با حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے سوانح قبل از خلافت شعر و سخن کا آغاز ۱۹۰۳ ء میں آپ نے شعر و سخن کی دنیا میں قدم رکھا تو ابتداء آپ شاد متخصص فرماتے تھے آپ کی پہلی (مطبوعہ نظم کے چند اشعار یہ ہیں۔۔- اپنے کرم سے بخش دے میرے خدا مجھے نمار حق ہوں ترا دے تو شفا مجھے جب تک کہ دم میں دم ہے اس دین پر رہوں اسلام کو بھی آئے جب آئے قضا مجھے تیری رضا کا ہوں میں طلبگار ہر گھڑی گر یہ ملے تو جانوں کہ سب کچھ ملا مجھے سیدنا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالی کی تمام منظومات "کلام محمود" میں تاریخی ترتیب کے ساتھ طبع شدہ ہیں اور آپ کی سیرت کا صاف و شفاف آئینہ ہیں۔جس میں عشق الہی۔عشق رسول اور عشق اسلام کی شان اپنی پوری آن بان سے درخشان و تاباں ہے۔آپ نے اپنے کلام کے بارے میں وضاحت فرمائی ہے کہ میرے نزدیک شعر اس لئے کرنا کہ لوگ پسند کریں اور داد دیں درست نہیں۔میں بھی شعر کہتا ہوں۔لیکن جب میں شعر کہتا ہوں تو نہیں معلوم ہو تاکہ کیا لکھ رہا ہوں۔جب قلم ایک جگہ جا کر رک جاتا ہے تو پھر خواہ کتنا ہی زور لگاؤں آگے شعر نہیں کیا جاسکتا۔۔وہ شعر جس کو انسان تلاش کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔لاتا ہے وہ نا پسند ہے مگر جب طبیعت میں جوش اور بغیر خوض اور غور کے مضامین جاری ہوں تو وہ ایک قسم کا القاء اور الہام ہوتے ہیں " نیز فرماتے ہیں۔در حقیقت اگر دیکھا جائے تو میرے اشعار میں سے ایک کافی حصہ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ ایک چوتھائی یا ایک ٹکٹ حصہ ایسا نکلے گا جو در حقیقت قرآن شریف کی آیتوں کی تفسیر ہے یا حدیثوں کی تغییر ہے لیکن ان میں بھی لفظ پھر مختصر ہی استعمال ہوئے ہیں ورنہ شعر نہیں بنتا۔شعر کے چند لفظوں میں ایک بڑے مضمون کو بیان کرنا آسان نہیں ہو تا یا اسی طرح کئی تصوف کی باتیں ہیں جن کو ایک چھوٹے سے سکتہ میں حل کیا گیا ہے " حضرت سیدنا محمود ایده مولانا الطاف حسین صاحب حالی کو خط اور ان کا جوار اللہ تعالٰی نے جب شعر کہنے شروع کئے تو آپ نے مولانا الطاف حسین صاحب حالی کو محط لکھا کہ میں شاعری میں آپ کا شاگرد بنا چاہتا ہوں اگر آپ منظور فرما ئیں تو آپ کو اپنا کلام اصلاح کے لئے بھیج دیا کروں۔کچھ دنوں کے بعد مولوی صاحب کا جواب آیا کہ ”میاں صاحبزادے اپنی قیمتی عمر کو اس فضول مشغلے میں ضائع نہ کرو یہ عمر تحصیل علم کی ہے۔پس دل لگا کر علم حاصل کرد - جب بڑے ہو گئے اور تحصیل علم کر چکو گے اور