تاریخ احمدیت (جلد 4)

by Other Authors

Page 635 of 754

تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 635

600 خلافت ثانیہ کا چودھواں سال اور کیا ہو سکتا ہے یہ رسول کریم ﷺ کی محبت کا سوال ہے اور ہم اس مقدس وجود کی عزت کے معاملہ میں کسی کے معارض بیان پر بغیر آواز اٹھائے نہیں رہ سکتے ہیں میں قانون تو جانتا نہیں اس کے متعلق تو آپ قانون دان لوگوں سے مشورہ لیں مگر میری طرف سے آپ کو یہ مشورہ ہے کہ آپ اپنے جواب میں لکھوادیں کہ اگر ہائیکورٹ کے بچوں کے نزدیک کنور دلیپ صاحب کی عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے نے نے تیار ہوں۔اس مقدمہ کی سماعت ۲۲ جون ۱۹۲۷ء کو مقدمہ کی سماعت اور سید دلاور شاہ کا بیان ہائیکورٹ کے فل بنچ نے کی جس میں سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے مومنانہ غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے نہایت ایمان افروز بیان دیا کہ۔و مسلمان کا سب سے زیادہ محبوب اور مطلوب جذبہ یہ ہے کہ وہ اسلام کے پیغمبر پاک سے عقیدت و افراد ر ارادت کامل رکھتا ہے۔مسلمان کے لئے خواہ وہ کسی طبقہ یا درجہ سے تعلق رکھتا ہو عام اس سے کہ وہ امیر ہو یا غریب و نادار یہ ناممکن ہے کہ پیغمبر پاک اللہ کی ذات پاک یا آنحضرت کی سیرت مبارکہ پر کسی قسم کا حملہ گوارا کر کے یہی وجہ ہے کہ رنگیلا رسول کی اشاعت سے ہر ایک قلب مسلم پر یاس و ہیجان مستولی ہو گیا۔ہر مسلمان مضطرب نظر آنے لگا۔لیکن اس اشتعال انگیز کتاب کی اشاعت سے مشتعل شدہ جذبات کو ملت اسلامیہ کے ہر فرد نے دبائے رکھا۔اور اس امید سے دل کو تسلی دے لی کہ اس کی اشاعت کے ذمہ دار کو قانون کے ماتحت واجب اور منصفانہ سزادی جائے گی اور کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔آنریل مسٹر جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ نے امیدوں کے قصر کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور اس وسیع ملک کے طول و عرض میں لاکھوں کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو نہایت سخت صدمہ پہنچا "۔اس مقدمہ میں وکالت کے لئے چودھری ظفر اللہ خان صاحب کی فاضلانہ بحث مسلمان وکلاء نے متفق طور پر چودھری ظفر اللہ خان صاحب کا نام تجویز کیا اور آپ ہی مقدمہ میں پیش ہوئے اور ایسی قابلیت اور عمدگی سے وکالت کی کہ سب مسلمانوں نے آپ کو خراج تحسین ادا کیا۔چنانچہ اخبار " دور جدید لاہور نے لکھا:۔” مسلم آؤٹ لک کے اس کیس کے سلسلہ میں جو در حقیقت راجپال کے مقدمہ تحقیر نبی کریم کا ایک شاخسانہ تھا۔شفیع مرحوم و مغفور کی کوٹھی پر پنجاب کے بہترین وکلاء اس غرض کے لئے جمع