تاریخ احمدیت (جلد 4) — Page 624
تاریخ احمدیت۔جلد ۳۰ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۷ء صفحہ ۳۵ ۱۳۱ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۸ء صفحه ۱۸۳-۱۸۲ ۱۳۲۔رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۹ء صفحه ۱۸۵ تا ۱۸۷- ۱۳۳ الفضل ۲۲/ اکتوبر ۱۹۲۹ء- ۱۳۴- ریویو آف ریلیجز اردو جنوری ۱۹۴۷ء صفحه ۵۸- ۱۳۵ رپورٹ سالانہ ۳۲-۱۹۳۱ء صفحه ۵-۶- ۱۳۹ رپورٹ سالانه ۱۹۳۴:۳۵ء صفحه ۰۹۹۰۹۸ ۱۳۷- ریویو آف ریلیجز اردو جنوری ۱۹۴۷ء صفحه ۱۵۸ ۱۴- ۱۳۸ رپورٹ سالانه ۳۵-۱۹۳۴ء صفحه ۹۱ ۱۳۹ رپورت سالانه ۳۵-۱۹۳۴ء صفحه ۹۰ تا ۹۷ ۱۴۰ رپورٹ سالانه ۱۹۳۶ء صفحه ۱۴۰-۱۴۱- ۱۴۱ سالانہ رپورٹ ۳۸-۱۹۳۷ء صفحه ۱۳۹-۰۱۴۴ ۱۴۲ رپورٹ سالانه ۴۱ ۱۹۴۰ء صفحه ۳۰-۰۳۱ ۱۳۳ خالد ابریل ۱۹۵۳ء صفحه ۲۴۰۲۳ ۱۴۴ ریویو آف ریلیجز اردو جنوری ۱۹۴۷ء صفحه ۶۴-۶۶- 589 حواش ۱۴۵- چنانچہ مولوی محمد صادق صاحب کا بیان ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا کی جنگ کے ختم ہونے میں چند ماہ باقی رہ گئے ایک روز ایک شخص ہمارے ایک احمدی دوست کے پاس آیا اور کہا کہ مولوی محمد صادق صاحب کے متعلق یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ جس وقت اتحادی فوجیں سائٹر ایا جاوا کے کسی حصہ پر چڑھ آئیں گی اسی وقت ان کو گر فتار کر لیا جائے گا۔یہ خبر سنتے ہی میں نے جماعت کو تحریک کی کہ وہ ہمیں دن متواتر تجد کی نماز ادا کریں۔اور ہر سوموار اور جمعرات کو روزے رکھیں۔جب تیسری رات تہجد کی نماز پڑھ کر صبح سے قبل میں تھوڑی دیر کے لئے لیٹ گیا۔تو مجھے خواب میں بڑے موٹے حروف میں لکھا ہوا دکھائی دیا کہ کتاب دانیال کی پانچویں فصل پڑھو مغرب کی نماز پڑھ کر میں نے بائیل کا مذکورہ حوالہ پڑھا جس میں بیش مرنی بخت نصر کے متعلق ذکر ہے اور آخر میں لکھا ہے کہ خدا نے اسے ایک خواب دکھایا جس کے متعلق دانیال نبی نے خدا سے پوچھا اور اس کی تعبیر بیان کی اس خواب کے الفاظ یہ ہیں کہ باشہ مر کی حکومت کا خاتمہ قریب آپہنچا ہے خدا نے اسے تو لا۔وہ ملکی نکلی اب اسے منا کر فارسی حکومت کو اس کی جگہ قائم کر دیا جائے گا۔میں نے یہ خواب بعض ہندو اور سکھ دوستوں کے سامنے بھی بیان کیا اور بعض چیدہ چیدہ احمد کی دوستوں کو بھی بتایا۔اس کے بعد خدا تعالی نے حالات کو ایسے پلٹا دیا کہ چند ماہ میں حکومت جاپان تباہ ہو گئی۔دراصل جاپانی حکومت نے ۱۴/ اگست ۱۹۴۵ ء ہی کو شکست مان لی تھی۔مگر اس نے سماٹرا اور جادا میں ۲۲/ اگست کو یہ شائع کیا کہ ہمارے بادشاہ نے رعایا پر شفقت کی نظر کرتے ہوئے انگریز اور امریکہ سے صلح کرلی ہے۔جس دن یہ پمفلٹ شائع ہوا۔اسی دن میں سردار جوگندر سنگھ صاحب۔ہری برادر زیاد نگ کی دکان پر گیا وہاں ایک عالم حسن فواد بھی تھے۔انہوں نے مجھے مخاطب ہو کر کہا "مبارک ہو " میں نے کہا خیر مبارک " مرتا ہے تو سنی یہ مبارک باد کیسی " انہوں نے کہا آپ کے متعلق فیصلہ ہو چکا تھا کہ آپ کو ۲۴/۴۳/ اگست ۱۹۴۵ء کی رات کو سزائے موت دی جائے گی مگر اللہ تعالی نے آپ کو بچالیا۔کیونکہ بلیک لسٹ میں آپ کا نام بھی درج ہے پھر دوسرے غیر احمد یوں نے بھی ہمارے بعض دوستوں کو خود بخود بتایا کہ میرے متعلق سزائے موت کا فیصلہ اس لئے کیا گیا تھا کہ میں جاپانی جنگ کو جہاد فی سبیل اللہ نہ مانتا تھا بلکہ اس کے خلاف تبلیغ کرتا تھا۔اس طرح خدا تعالٰی نے اپنی قدرت کا ایک کرشمہ ظاہر فرمایا۔ریویو آف ریلیج اردو شوری ۱۹۴۷ء صفحه ۶۶-۶۷) اسی طرح جاوا میں جو مبلغین گرفتار تھے ان کی رہائی کے لئے خدا تعالٰی نے نشان دکھایا اور جاپانی حکومت کی تباہی کی معین تاریخیں تک بتادیں۔چنانچہ جناب سید شاہ محمد صاحب فرماتے ہیں۔" ایک دفعہ ہمارے بعض دوستوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ استخارہ اور دعا کے ذریعہ معلوم کیا جائے کہ کیا ہم زندہ قیدت