تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 57 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 57

تاریخ احمدیت جلد ۳۰ 53 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( حمل از خلافت) ۵۸- تفسیر کبیر از حضرت المصلح الموعود سورة القريش صفحہ ۲۴۲- الفضل ۲۹ جون ۱۹۶۰ء صفحہ ۳ کالم - اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۵۲۰ - قاضی ظہور الدین صاحب اکمل کی روایت ہے کہ یہ بہن بھی بلاخر آپ کے زمانہ میں بیعت کر کے احمدی ہو گئی تھیں۔اور قادیان میں ہی فوت ہو ئیں۔مگر دوسرے رشتہ دار ان کی نعش اپنے وطن میں لے گئے تھے۔ان کا ایک پر لطف واقعہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے یہ لکھا ہے کہ : حضرت خلیفہ اول ان کی ایک بہن تھیں جو کسی پیر کی مرید تھیں۔ایک دفعہ وہ آپ سے ملنے کے لئے آئیں۔تو آپ نے اس سے کہا۔بہن تمہیں نماز کی طرف توجہ نہیں تم آخر خدا کو کیا جواب دو گی؟ اس نے کہا میں نے جس پیر کی بیعت کی ہوئی ہے اس نے مجھے کہہ دیا ہے کہ چونکہ تم نے میری بیعت کرتی ہے۔اس لئے اب تمہیں سب کچھ معاف ہے۔آپ نے اپنی بہن سے کہا۔بہن ! اپنے پیر سے پوچھنا کہ خدا کا حکم کس طرح معاف ہو گیا۔نماز کا حکم تو خدا نے دیا ہے اور وہ قیامت کے دن اس کا حساب لے گا۔آپ کی بیعت کرنے سے یہ حکم کس طرح معاف ہو گیا؟ اس نے کہا بہت اچھا۔جب میں جاؤں گی تو یہ بات ضرور دریافت کروں گی۔کچھ مدت کے بعد وہ پھر آپ سے ملنے کے لئے آئی۔تو آپ نے اس سے پوچھا کہ بتاؤ تم نے اپنے پیر صاحب سے وہ بات دریافت کی تھی اس نے کہا ہاں میں اپنے پیر صاحب کے پاس گئی تھی اور ان سے میں نے یہ بات دریافت کی تو وہ کہنے لگے تو نور دین سے ملنے گئی تھی معلوم ہوتا ہے یہ شرارت تجھے نور دین نے ہی سکھائی ہے۔میں نے کہا کسی نے سکھائی ہو آپ یہ بتا ئیں کہ اس کا جواب کیا ہے ؟ انہوں نے کہا۔قیامت کے دن جس وقت خدا تم سے پوچھے گا کہ تم نماز میں کیوں نہیں پڑھا کرتی تھیں تو تم کہہ دینا کہ میرا جواب پیر صاحب سے لیجئے۔انہوں نے کہا تھا کہ میری بیعت کر لینے سے اب تمام ذمہ داری مجھ پر آپڑی ہے تمہیں نمازیں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔اس پر خدا کے فرشتے تمہیں چھوڑ دیں گے اور وہ تم کو کچھ نہیں کہیں گے۔میں نے کہا پیر صاحب اپھر آپ کا کیا بنے گا؟ اتنے لوگوں کے گناہ آپ کے ذمہ لگ جائیں گے۔اس پر وہ کہنے لگے۔جس وقت خدا ہم سے حساب لینا چاہے گا تو ہم لال لال آنکھیں نکال کر اس سے کہیں گے کہ کربلا میں ہمارے دادا امام حسین کی شہادت کچھ کم تھی کہ اب ہم کو بھی دق کیا جاتا ہے۔اس پر خدا اپنی آنکھیں نیچی کرلے گا۔اور ہم بھی نور اجنت میں چلے جائیں گے " ( تفسیر کبیر (القریش) صفحہ ۲۴۲ ۵۹ حضرت خلیفتہ المسیح اول نے اپنی قلمی بیاض میں جو آپ کے خاندان میں محفوظ ہے۔آپ کی والدہ کے تھیال کا شجرہ بھی درج فرمایا ہے جو یہ ہے: معظم خاتون فتح خان مرگ تيح خاتون ندرخان خل اتر پراکن نہیں او یار نژاد علی سيدلي لي امام بي فين فعل غلام محمد یہ بغیر ہاتھ کا ہوتا ہے نورنگان جهدنی خان جہان خان بدر ۱۸/ اگست ۱۹۱۰ء صفحه ۶۰۵ ال احکم ۱۴ جولائی ۱۹۱۲ء صفحہ ۴ کالم ۲ ۲ مرآة الیقین صفحه ۱۷۳ اشراف سان خان