تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 635
تاریخ احمدیت جلد ۳ 623 " تاریخ احمدیت " پر تبصرے تاریخ احمدیت جلد چہارم کے متعلق مکرم مولانا ابو العطاء صاحب سابق مبلغ بلاد عربیه وایڈیٹر الفرقان کے تاثرات میر اول اس کتاب کے مطالعہ سے باغ باغ ہو گیا تاریخ احمدیت میں سید نا حضرت خلیفتہ المسیح اول مولانا نور الدین کو جو ممتاز اور نمایار مقام حاصل ہے۔اس کا تقاضا یہی تھی کہ آپ کی زندگی کے جملہ واقعات مستند طور پر اور پوری تفصیل دہ نسل اور آئندہ نسلوں کے سامنے رہیں۔تاسب احمدی آپ کے اسوہ کی پیروی کریں۔آپ کے ایثار آپ کی فدائیت اور آپ کی اطاعت امام کے عاشقانہ جذبہ سے سرشاری کو نمونہ بنا ئیں۔ادارۃ المصنفین ربوہ نے نہایت بر محل اور ہر موقعہ کتاب تاریخ احمدیت کی جلد چہارم شائع کی ہے۔یہ جلد سید نا حضرت مولانا نور الدین ان کی زندگی کی بہترین تاریخ ہے۔کتاب کی جامعیت بالکل عیاں ہے۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ فاضل مصنف عزیزم محترم مولوی دوست محمد صاحب شاہد نے نہایت عرق ریزی اور پوری کاوش سے کو نہ کو نہ چھان مارا ہے اور حضرت مولوی صاحب کے زندگی کے ہر پہلو کو نہایت کامل صورت میں ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے۔یہ کتاب پڑھنے سے جہاں حضرت مولوی صاحب موصوف کے کمالات زیادہ روشن طور پر سامنے آجاتے ہیں اور ہر مرحلہ پر آپ کی بلندی درجات کے لئے دل سے دعا نکلتی ہے وہاں پر اس جامع کتاب کے پڑھنے سے غیر مبائعین کا بھی پوری طرح قلع قمع ہو جاتا ہے۔تاریخی شواہد اور ناقابل تردید حقائق کی روشنی میں بلکہ اکابر غیر مبالکین کے خود مسلمہ بیانات کے مطابق ان کا باطل پر ہونا ثابت کر دیا گیا ہے۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب کا دستخطی غیر مطبوعہ مضمون اس سلسلہ میں ایک ایسی تاریخی دستاویز ہے کہ جس کے بعد اکابر غیر مبالعین کے لئے قطعاً گنجائش نہیں رہتی کہ وہ حضرت خلیفہ اول سے اپنی محبت کے دعاوی میں بچے قرار پا سکیں۔نیز ان کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ وہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت کے وجود کا انکار کر سکیں۔