تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 600
تاریخ احمدیت جلد ۳ 302 کچھ غیر تماسی نہیں کیا کہ اس ایک وکیل حاصلاتی کشور ان کی نسبت استر کا الی منفی طور پر سارے کرتی ہیں منع کیا تو مت آپ کی ان کو کہا کہ مین تقی رنگا رہے کر نہ دوستی شرکی بھی بجایی کار سرقت با ارایه کم کردی است یا خلافت اولی کی نسبت آسمانی شہادتیں ہ جو یہ پوٹی رقیب است ایر لواقع علی الت باہرکہ رات کو آپس کو بھی انعام کام کو حریف چند روز است الالای تولید خود را در گرگا اشتہارات میں ذکر حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنے اشتہارات میں آپ کی شان میں بہت کچھ لکھا ہے۔مثلا ۴ / اکتوبر ۱۸۹۹ء کے اشتہار میں لکھا۔”میں اس بات کے لکھنے سے رہ نہیں سکتا کہ اس نصرت اور جانفشانی میں اول درجہ پر ہمارے خاص محب فی اللہ مولوی حکیم نور الدین صاحب ہیں جنہوں نے نہ صرف مالی امداد کی بلکہ دنیا کے تمام تعلقات سے دامن جھاڑ کر اور فقیروں کا جامہ پہن کر اور اپنے وطن سے ہجرت کر کے قادیان میں موت کے دن تک آبیٹھے۔اور ہر وقت حاضر ہیں۔اگر میں چاہوں تو مشرق میں بھیج دوں یا مغرب میں۔میرے نزدیک یہ وہ لوگ ہیں جن کی نسبت براہین احمدیہ میں یہ الہام ہے۔اصحاب الصفه و ما ادرك ما اصحاب الصفه۔۔اور مولوی حکیم نورالدین صاحب تو ہمارے اس سلسلہ کے ایک شمع روشن ہیں "۔خطوط میں ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خطوط میں بھی آپ کی شاندار خدمات اور بلند منصب کا بار بار ذکر ملتا ہے۔چنانچہ حضور نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے۔کہ "مجھ کو آندوم کے ہر ایک خط کے پہنچنے سے خوشی پہنچتی ہے کیونکہ میں جانتا ہوں۔خالص دوستوں کا وجود کبریت احمر سے عزیز تر ہے۔اور آپ کے دین کے لئے جذبہ اور ولولہ اور عالی ہمتی ایک فضل الہی ہے۔جس کو میں عظیم الشان فضل سمجھتا ہوں"۔12 ۱۳۵