تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 594
تاریخ احمد بہت جلد ۳ 586 خلافت اولی کی نسبت آسمانی شہادتیں فصل سوم حضرت خلیفہ اول کا بلند مقام تحریرات حضرت مسیح موعود کی روشنی میں چه خوش بودے اگر ہر یک زامت نوردیں بودے ہمیں بودے اگر ہر دل پر از نور یقیں بودے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تحریرات میں اپنے مخلص اور جاں نثار خدام میں سے سب سے بڑھ کر جس وجود کو تعریفی کلمات سے نوازا ہے وہ حضرت مولوی نور الدین خلیفتہ المسیح اول ہیں جن کا ذکر آپ نے نہ صرف اپنی کتابوں میں فرمایا ہے بلکہ اپنے اشتہاروں ، نجی خطوط اور تقاریر میں بھی آپ کے بلند مقام اور علو مرتبت کا بڑی کثرت سے تذکرہ فرمایا ہے اس ضمن میں حضور کے چند اقتباسات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔تصانیف میں ذکر حضور فتح اسلام (۱۸۹۰) میں فرماتے ہیں۔” سب سے پہلے میں اپنے ایک روحانی بھائی کے ذکر کرنے کے لئے دل میں جوش پاتا ہوں جن کا نام ان کے نور اخلاص کی طرح نور دین ہے۔میں ان کی بعض دینی خدمتوں کو جو اپنے مال حلال کے خرچ سے اعلاء کلمہ اسلام کے لئے وہ کر رہے ہیں ہمیشہ حسرت کی نظر سے دیکھتا ہوں۔کہ کاش وہ خدمتیں مجھ سے بھی ادا ہو سکتیں۔ان کے دل میں جو تائید دین کے لئے جوش بھرا ہے اس کے تصور سے قدرت الہی کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے کہ وہ کیسے اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے"۔re " آسمانی فیصلہ " (۱۸۹۱) میں تحریر فرماتے ہیں۔" حضرت مولوی صاحب کے محبت نامہ موصوفہ کے چند فقرے لکھتا ہوں غور سے پڑھنا چاہئے۔تا معلوم ہو کہ کہاں تک رحمانی فضل سے ان کو انشراح صدر و صدق قدم و یقین کامل عطا کیا گیا ہے اور وہ فقرات یہ ہیں۔" عالی جناب مرزا جی مجھے