تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 40 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 40

تاریخ احمدیت جلد ۳ 36 خلیفہ المسیح الاول کے حالات زندگی ( قبل از خلافت) مجبور اٹھ کر کھنچے چلے جاتے تھے۔راستہ میں انہوں نے سورۃ الفلق اور سورۃ الناس کا ورد کرنا شروع کر دیا۔وہ ورد کرتا جاتا اور سبحان شاہ کے مکان کی طرف بڑھتا جاتا تھا پھر اس دوست نے بڑی الحاج سے دعا مانگی یہاں تک کہ وہ رسہ ٹوٹ گیا۔اور وہ راستہ میں ہی اپنے مکان کو واپس چلے آئے۔بہت دنوں کے بعد وہ خود ہی سبحان شاہ کے مکان پر گئے تو انہوں نے دیکھتے ہی کہا چلے جاؤ۔یہ دوست چلے آئے مگر یہ کہتے ہوئے آئے کہ آپ کا رسہ تو ہم نے تو ڑ ہی دیا ہے۔-۵- آپ کے استاد مولوی ارشاد حسین صاحب سلسلہ نقشبندیہ میں مرید ہونے کی وجہ سے آپ کے پیر بھائی بھی تھے۔مگر ان کی مجلس میں جب کبھی حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب شہید کی شان میں کوئی ناروا بات کہی جاتی تو آپ برداشت نہ کر سکتے۔آپ نے ہر چند کوشش کی کہ وہاں یہ جھگڑے نہ ہوں کیونکہ ان کا پڑھائی پر سخت ناگوار اثر پڑتا تھا مگر آپ کا کوئی سکوت کارگر نہ ہوا۔ایک دن آپ کے استاد صاحب نے آپ سے کہا کہ تم جو مولوی محمد اسماعیل صاحب کے اس درجہ عقیدت مند ہو کیا تم نے ان کو دیکھا ہے ہم تو علم میں ان سے زیادہ ہیں۔آپ نے جواب دیا کہ آپ علم میں ان سے زیادہ ہی سہی لیکن یہی تو ان کا جذب ہے کہ میں ان کے مقابلہ میں آپ کو یا کسی کو نہیں سمجھتا یہ سنکر مولوی ارشاد حسین صاحب بہت خفا ہو گئے اور ایک آسودہ حال طالب علم عبد القادر خاں نے اس محلہ میں جا کر جہاں حضرت مولوی نورالدین صاحب نماز پڑھاتے تھے۔ایک سادہ طبع شخص کلن خاں کو اکسایا کہ امام الصلوۃ کا اپنے استاد سے کئی مسائل میں اختلاف ہے اس لئے وہ کسی عزت کا مستحق نہیں ہے مگروہ اس کے بھرے میں نہ آئے بلکہ غضب ناک ہو کر اپنی تلوار نکال کر اسے دکھائی۔یہ دیکھتے ہی عبد القادر خان بھاگ گیا۔بہت دنوں کے بعد حضرت مولوی صاحب نے کلن خاں سے اصل واقعہ پوچھا تو انہوں نے ہنس کر کہا کہ وہ آپ کے متعلق کچھ کہنے لگا تھا مگر رہ گیا۔اگر ذرا زیادہ زبان ہلا تا تو میں فورا اس کا سر اڑا دیتا۔آپ نے فرمایا۔آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔اگر خدانخواستہ یہ بات نواب صاحب تک پہنچتی تو آپ کو مشکل پیش آتی۔کہا۔نہیں جناب ! ہمار ا سارا محلہ ذبیح ہو جائے گاتب کوئی آپ کو ہاتھ لگا سکے گا۔رامپور میں آپ کا تین سال تک قیام رہا۔یہاں دور دور مقام پر دو پہر اور رات کو جا جا کر سبق پڑھنے اور دن رات مطالعہ میں منہمک رہنے کی وجہ سے آپ کو بے خوابی کا مرض لاحق ہو گیا آپ رامپور سے مراد آباد چلے گئے جہاں ایک پنجابی نوجوان تاجر اسماعیل کے توسط سے ایک صاحب عبدالرشید بنارسی سے ملاقات ہو گئی جنہوں نے مہینہ ڈیڑھ مہینہ تک آپ کی بے حد خدمت کی۔حتی کہ آپ اس عارضہ سے بکلی شفایاب ہو گئے۔