تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 583
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 575 حضرت خلیفتہ المسیح الاول ملی ہے طیبہ ۲۶۔بدر ۵ / مئی ۱۹۱۰ء صفحہ اکالم ۲ ۲۷ مرقاۃ الیقین صفحه ۱۴۶-۱۴۷ ۲۸ (مضمون قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب الفضل ۲ دسمبر ۱۹۵۰ء صفحہ ۳۔۴۔نوٹ:۔اس عظیم الشان لائبریری میں قریباً میں تمہیں ہزار کتابوں کا عظیم الشان ذخیرہ موجود تھا رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۵۲ء صفحہ ۱۲ ہندوستان کے بہت سے لوگوں کے علاوہ سرسید اور علامہ شیلی وغیرہ نے بھی آپ کے کتب خانہ سے استفادہ کیا۔(الحکم ۳۱ / مارچ ۱۹۰۰ء صفحه ۴ کالم ۲- بدر مئی ۱۹۰۹ء صفحہ (۳) ایک دفعہ استنبول کے ایک سیاح نے لائبریر میں دیکھی تو حیران رہ گیا ( بدر / اپریل ۱۹۱۰ ء صفحہ ۵ کالم ) آپ کے کتب خانہ میں جس کا ایک حصہ قادیان میں اور ایک حصہ ربوہ میں ہے متعدد قلمی کتابیں محفوظ ہیں فرمایا کرتے تھے کہ میں خدا کے فضل سے چھ سات سو صفحہ کی کتاب ایک رات میں پڑھ لیا کرتا ہوں۔(حمید الاذہان ۱۹۱۱ء ص ۲۳۶۳) مولانا ابو الکلام آزاد سید سلیمان ندوی کو لکھتے ہیں:۔"سید علی بلگرامی کا نسخہ (کتاب الرد على المنطقین ابن تمیمہ۔ناقل) مولانا شبلی مرحوم کے پاس تھا دو سرا نسخہ حکیم نور الدین صاحب قادیان کا تھا جو دیو بند آیا مولانا عبید اللہ کے پاس رہا پھر غائب ہو گیا۔" تبرکات آزاد صفحہ ۱۴۷) ۲۹ - البد (۲۹ اکتوبر ۸ / نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۲۹ کالم ۲ ۳۰ روایت پیر شمشیر علی صاحب آف بھیرہ ۱ پدر ۲۲/ جولائی ۱۹۰۹ء صفحه ۳ کالم ۳۲۔شعید الازمان جولائی ۱۹۱۱ء صفحہ ۲۶۲۔احکم ۷ / دسمبر ۱۹۹۰ء صفحہ ۶ کالم ۱-۲ ۳۴۔الحام ۷ / دسمبر ۱۹۱۰ء صفحہ ۶ کالم ۱-۲ ۳۵۔الحکم ۷ / فروری ۱۹۱۱ء صفحہ ۶ کالم سو ۳۶۔روایت مولوی فضل الدین صاحب وکیل ۳۷۔کلام امیر صفحه ۵۸ - روایت قریشی امیر احمد صاحب ۳۹۔روایت حکیم محمد صدیق صاحب آف گھو گھیاٹ حال ربوہ شہید الا زبان جلد ۶ ۱۹۱۱ء صفحه ۲۶۴ روایت مولوی محمد جی صاحب فاضل الفضل ۱۵/ اکتوبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱۵ کالم الحکم ۱۴/ جنوری ۱۹۰۹ء صفحہ ۶ کالم ۴۴ بدر جلد ۸ نمبر ۴۴ درس صفحه ۹۵ کالم ۲ ۴۵۔فاروق ۷ / اکتوبر ۱۹۲۹ء صفحه ۸ کالم ۱ ۴۔اصحاب احمد جلد ہشتم صفحه ۷۰۔۴۷۔اصحاب احمد جلد دہم صفحہ ۱۲۷ -۴۸۔یہ خط مخدوم محمد صدیق صاحب کے نام تھے اصل خطوط مخدوم بشیر احمد صاحب بھیرہ کے پاس محفوظ میں ۴۹۔اصل خط جو ۲۱ / دسمبر ۱۹۰۳ء کا ہے مخدوم بشیر احمد صاحب کے پاس محفوظ ہے مخدوم محمد اعظم صاحب حاجی مخدوم محمد عثمان صاحب کے فرزند اور حضرت خلیفہ اول کے بہت پیارے عزیزوں میں سے تھے چار سال تک مدرسہ طیبہ دہلی میں تعلیم پائی تھی اور حکیم عبد المجید خاں اور حکیم محمد اجمل خاں سے سند حاصل کر کے واپس اپنے وطن مخدوم آباد داخلی کوٹ احمد خاں میں آگئے اور مطلب جاری کیا۔کچھ عرصہ بعد راولپنڈی چلے گئے چند سال تک ریاست لسبیلہ ریاست بلوچستان میں والئے ریاست سرکار جام صاحب بہادر کے طبیب خاص اور افسر شفا خانہ جات رہے چند سال کے بعد آپ ملازمت سے استعفاء دے کر بھیرہ میں آگئے اور مطلب کرنے لگے۔رپورٹ آل انڈیا یدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کے تیسرے اجلاس کی رپورٹ کے صفحہ ان پر ان کا