تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 567
تاریخ احمدیت جلد ۳ 559 حضرت خلیفتہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ یادداشتیں لکھوں میرے دماغ کو شعر سے تو کچھ نسبت نہیں۔ایک روز جمعہ کے دن بڑے زور مار مار کر تین شعر لکھے تھے حالانکہ اس وقت میرے اندر ایک کیفیت بھی موجود تھی۔مگر جب قرآن کریم کے انتخاب کے لئے قلم اٹھایا تو مجھ کو یہ شعر یاد آگیا۔۔ز فرق تا بقدم ہر کجا کہ ہے مگرم کرشمہ دامن دل میکشد که جا اینجا است میں نے قلم کو توڑ دیا۔سیاہی کو الٹ دیا۔اور کہا کہ اے قلم کہ تو بھی جھوٹا ہے اور اے دوات اتو INA بھی جھوٹی ہے کیا قرآن کریم کا انتخاب لکھنا چاہتے ہو۔یہ خود سارے کا سارا انتخاب ہے۔ایک بار ختم قرآن کے موقعہ پر آپ درس دینے کے لئے مسجد میں کھڑے ہوئے سامنے ایک بڑی چادر میں بتاشے رکھ دئے گئے۔حضور نے درس دیتے ہوئے فرمایا۔ان کو اٹھالو۔تمہیں ختم قرآن کی خوشی ہے۔اور نور الدین کو غم ہے کہ پھر زندگی میں قرآن مجید ختم کرنا نصیب ہو گا یا نہیں۔آپ تیز بخار میں بھی درس کا ناغہ نہ ہونے دیتے۔ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں درس دیتے ہوئے اچانک آپ کو شدید ضعف ہو گیا بیٹھ گئے ہاتھ پاؤں سرد ہو گئے۔چلنے کی قوت نہ رہی چارپائی پر اٹھا کر لائے۔مگر راستہ میں جب مسجد مبارک کے پاس پہنچے تو فرمایا کہ مجھے گھر نہ لے جاؤ مسجد میں لے جاؤ۔بمشکل تمام مسجد کی چھت پر پہنچ کر نماز پڑھی اور باوجود تکلیف کے نماز مغرب کے بعد ایک رکوع کا درس دیا۔پھر چار پائی اٹھا کر گھر تک لائے۔اللہ تعالیٰ نے آپ پر حضرت مسیح موعود کی قوت قدمی سے قرآن مجید کے علوم اور حقائق و معارف کے دروازے اس کثرت سے کھول دئے تھے کہ اس زمانہ میں دنیائے اسلام میں درس قرآن کا آپ سے بڑا ماہر خطہ زمین پر دیکھنے میں نہیں آتا۔قمر الا نبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے حضرت خلیفہ اول کے درس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے:۔یہ درس مسجد اقصیٰ میں ہوا کرتا تھا اور اوائل زمانہ میں کبھی کبھی خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی اس درس میں چلے جایا کرتے تھے حضرت خلیفہ اول کے درس میں اعلیٰ درجہ کی علمی تغییر کے علاوہ واعظانہ پہلو بھی نمایاں ہو تا تھا۔کیونکہ آپ کا قاعدہ تھا کہ رحمت والے واقعات کی تشریح کر کے نیکی اور انابت الی اللہ کی رغبت دلاتے اور عذاب والے واقعات کے تعلق میں دلوں میں خشیت اور خوف پیدا کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔اور آپ کا درس بے حد دلچسپ اور ہر طبقہ کے لئے موجب جذب و کشش ہوا کرتا تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جماعت احمدیہ کے علم التفسیر کا ایک کثیر حصہ بلا واسطه یا بالواسطہ آپ ہی کی تشریحات اور انکشافات پر مبنی ہے۔اور آپ کے درس میں یوں معلوم ہو تا تھا۔کہ جیسے ایک وسیع سمند ر ہے۔جس کا ایک حصہ موجزن ہے۔اور دوسرا ساکن اور