تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 563
تاریخ احمد بیرت - جلد - آٹھواں باب (فصل دوم) 555 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ سیرت کے بعض نمایاں اور ممتاز پہلو حضرت خلیفہ اول کی سیرت طیبہ پر عمومی رنگ میں روشنی ڈالنے کے بعد اب ہم آپ کی مقدس زندگی کے چار نمایاں اور ممتاز ترین پہلو بیان کرتے ہیں۔بے مثال تو کل اور غیبی رزق کی آمد آپ کی زندگی کا سب سے پہلا اور نمایاں پہلو آپ کا بے مثال تو کل تھا۔جو آپ کی زندگی کے ہر شعبہ میں پوری شان سے جلوہ گر نظر آتا تھا۔ایک دفعہ آپ کی بیماری کے دنوں میں شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے عرض کیا۔کہ اگر پسند کریں تو حاذق الملک کو دہلی سے بلوایا جائے۔فرمایا "خدا پر تو کل کرو۔میرا بھروسہ نہ ڈاکٹروں پر ہے نہ حکیموں پر۔میں تو اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں اور اسی پر تم بھروسہ کرد"۔آپ کا خدا تعالیٰ سے ایسا ذاتی تعلق تھا کہ آپ کی ہر ضرورت کے پورے ہونے کا غیب سے سامان ہو جاتا تھا۔اور اس بارے میں آپ کی زندگی میں اتنے واقعات پیش آئے جن کا شمار ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔آپ فرمایا کرتے تھے۔کہ میری آمدنی کا راز خدا نے کسی کو بتانے کی اجازت نہیں دی۔۱۳۹ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:۔" حضرت خلیفتہ المسیح (اول) کو دیکھ لو انہیں جو ضرورت ہو اس وقت پوری ہو جاتی ہے اور کوئی روک یاد یہ نہیں ہوتی۔ان سے اللہ تعالٰی کا وعدہ ہے کہ جب تمہیں ضرورت ہو ہم دیں گے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے میرے سامنے ایک آدمی آیا اس نے دو سو روپیہ بطور امانت دو سال کے لئے دیا۔اور کہا کہ میں دو سال کے بعد آکر آپ سے لے لوں گا ایک شخص جس نے جناب سے ایک سو روپیہ قرض مانگا ہوا تھا۔وہ بھی پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔آپ نے ایک سو اسے دے دیا۔اور رسید لے کر اس تھیلی میں رکھ لی اور تھیلی روپوں کی گھر بھجوا دی۔تھوڑی دیر کے بعد وہی امانت رکھوانے والا پھر آیا اور کہا کہ میرا ارادہ بدل گیا ہے وہ روپے آپ مجھے