تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 561
ت - جلد ۳ 553 حضرت خلیفتہ البیع الاول کی سیرت طیبہ امرت سر کی ایک عورت کو د بیلتہ الرحم سے درد شدید اور پیپ اور خون بہنے کی تکلیف تھی اور باوجود اطباء اور ڈاکٹروں کی کوشش کے اسے چنداں افاقہ نہیں ہوا۔آپ حضور کی اجازت سے اس کے اقرباء کے ساتھ تانگہ پر سوار ہو کر قادیان سے امرت سر کی طرف روانہ ہوئے اور تانگہ میں ہی دعا شروع کر دی۔کہ اے خدا بڑے بڑے طبیبوں سے یہ شفا نہیں پاسکی تو نور الدین تیرے فضل کے بغیر کیا کر سکتا ہے ؟ آپ کی یہ دعا قبول ہوئی۔اور خدا نے آپ کے نسخہ سے اسے شفایاب کر دیا۔فرماتے ہیں کہ کوئی مریض آکے کہتا ہے مجھے دوا سے فائدہ ہے۔کوئی کہتا ہے کچھ فائدہ نہیں نہ میں پہلے کی بات پر خوش ہوں نہ دوسرے کے کہنے پر ناراض۔اس لئے کہ میرا کام تو صرف نسخہ لکھ دیتا ہنے آگے شفا دینا نہ دینا یہ صرف خدا کا کام ہے۔۱۳ صحابی مسیح موعود چوہدری حاکم دین صاحب مرحوم کی بیوی کو پہلے بچہ کی پیدائش کے وقت سخت تکلیف ہوئی۔چوہدری صاحب رات کے گیارہ بجے حضرت خلیفہ اول کے گھر گئے چوکیدار نے اطلاع دینے سے انکار کر دیا۔مگر حضور نے اندرون خانہ میں آواز سن لی۔اور آپ نے ایک کھجور پر کچھ پڑھ کر ان کو دیا کہ بیوی کو کھلا دیں اور بچہ پیدا ہو جائے تو مجھے بھی اطلاع دیں۔تھوڑی دیر بعد بچی پیدا ہوئی۔مگر انہوں نے دوبارہ جاکر حضور کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔مگر صبح حاضر ہوئے۔تو حضرت خلیفہ اول نے فرمایا۔کہ بچی پیدا ہونے کے بعد تم میاں بیوی آرام سے سو رہے۔اگر مجھے بھی اطلاع دے دیتے تو میں بھی آرام سے سو رہتا۔میں تمام رات تمہاری بیوی کے لئے دعا کر تا رہا ہوں۔آپ کو غلو سے سخت نفرت تھی۔ایک دفعہ فرمایا۔" لا تغلوا فی دینکم میں نے اپنے امام کی قبر کو اس لئے پریشان نہیں بنے دیا۔اور وہ تابوت جس میں حضور علیہ السلام کی نعش مبارک تھی۔پھینکوا دیا۔تاغلو و شرک نہ پیدا ہو جائے۔حضرت خلیفہ اول کے عہد خلافت کی بات ہے کہ آپ کا ایک فوٹو قادیان میں بک رہا تھا کسی شخص نے یہ فوٹو حضور تک بھی پہنچا دیا۔فرمایا یہ تو جوانی کے زمانے کا ہے۔پھر فرمایا یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہندوؤں کی طرح اس پر کوئی پھول چڑھانے شروع کر دے۔کسی نے آپ کے حرم کے لئے ام المومنین کا لفظ استعمال کیا۔جس پر آپ نے سخت کراہت اور ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔T - آپ کا مقصود صرف دین تھا اور خدا کی خوشنودی حاصل کرنا تھا اور اس کے لئے آپ محاسبہ نفس بھی کرتے رہتے تھے ایک روز جمعہ کی نماز سے قبل نما رہے تھے۔کہ اپنے نفس کا محاسبہ شروع کر دیا۔اگر بیوی یاد نہ دلاتی تو شاید وہیں شام ہو جاتی۔الده