تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 560
تاریخ احمدیت۔جلد و 552 حضرت خلیفہ المسیح الاول کی سیرت طیبہ وفات کے پے در پے صدمے سے کئی بار بیماریوں میں مبتلا ہوئے مگر سخت سے سخت کرب کی حالت میں بھی آپ خدا کی رضا پر راضی رہے۔اور دکھ کی المناک گھڑیوں میں بھی زبان سے سبحان اللہ و بحجم و کانی پیارا کلمہ نکلتا رہا۔اپنے ایک بچہ کی وفات پر جنازہ پڑھتے وقت الحمد للہ کہنے میں ایک بار کچھ قبض ہوئی۔آخر خدا نے سمجھایا۔کہ اگر یہ بچہ زندہ رہتا تو معلوم نہیں کیا کچھ کرتا۔اس پر آپ نے بشاشت قلبی سے الحمد للہ کہا۔آپ زندگی کے ہر مرحلہ پر دعا کرنا ضروری سمجھتے تھے۔اور دعا کی قوت و طاقت کو سب سے بڑی طاقت یقین کرتے تھے۔اور فرمایا کرتے تھے۔انسان کو چاہیئے۔کہ دعا کی عادت ڈالے۔اس سے کامیابیوں کی تمام راہیں کھل جائیں گی۔ہر مرض کی دوا ہر مشکل کی مشکل کشائی دعا ہے۔امام کی معرفت سے جو لوگ محروم ہیں۔وہ بھی دراصل دعاؤں سے بے خبر ہیں۔میں کبھی کسی مسئلہ اختلاف سے نہیں گھبراتا۔کہ میرے پاس دعا کا ہتھیار موجود ہے۔یہ دعا کا ہتھیار تمہارے قبضہ میں ہے اس سے مسلح ہو جاؤ۔دوسرے سب اس سے محروم ہیں۔کسی نے تین سو روپیہ قرض مانگا آپ نے اسے ایک دعا لکھ بھجوائی کہ ہمارے پاس تو یہ دولت ہے۔ہے۔آپ فرماتے تھے کہ انسان اگر مبرد استقلال سے آستانہ الوہیت پر بیٹھا ر ہے تو جو چاہے لے سکتا [ire] آپ کا مقولہ تھا کہ " خدا سے ڈر اور پھر کر " - 11 ایک گمنام خط حضور کی خدمت میں پہنچا۔جس میں آپ کو لکھا تھا کہ فلاں دعا پڑھیں۔حضور نے فرمایا کیا حرج ہے یہ قرآن کی دعائیں ہیں۔ہم تو پڑھتے ہی رہتے ہیں۔اخبار میں چھاپ دیں۔ad فرماتے تھے ہمیں دو زبانیں پسند ہیں۔ایک اللہ کی۔ایک بادشاہ کی۔10 بحیثیت طبیب آپ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ دوا کے ساتھ دعا بھی کرتے تھے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے۔”مولوی صاحب کا وجود از بس غنیمت ہے۔آپ کی تشخیص بہت اعلیٰ ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ بیمار کے واسطے دعا بھی کرتے ہیں۔ایسے طبیب ہر جگہ کہاں مل سکتے ہیں"۔ایک دفعہ آپ کے پاس دق کا ایک لاعلاج بیمار آیا۔فرمایا کل دکھانا۔اور رات کو سحری کے وقت نماز تہجد میں مریض کے لئے بہت دعا کی جس پر اس کی صحت کی آپ کو الہاما بشارت ملی۔صبح آپ نے یہ خوشخبری سنائی۔چنانچہ حضور کے تجویز کردہ نسخہ کے چند روز استعمال کے بعد وہ بالکل تندرست ہو گیا۔