تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 533
تاریخ احمدیت جلد ۳ 525 خلافت اولی کے آخری ایام قابل فرزند ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک عرصہ کے بعد پیدا ہو سکے گا۔آریہ سماجی اخبار مسافر آگره (۲۰/ مارچ ۱۹۱۴ء) اصولاً ہمارے اور ان کے خیالات میں انتا ہی فرق تھا جتنا قطب جنوبی و قطب شمالی کے درمیان ہے لیکن پھر بھی یہ نہ کہنا دیانت کا خون ہو گا کہ وہ راسخ الاعتقاد ایماندار و نیک آدمی تھے۔علاوہ بریں ہم جانتے ہیں کہ ان کے دل میں اشاعت اسلام کا برادر داور قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے سے خاص محبت تھی۔اور وہ مرنے سے چند یوم پہلے تک برابر دونوں کام سرانجام دیتے رہے۔" حکیم عبدالکریم برہم ایڈیٹر اخبار مشرق گورکھپور (۱۷/ مارچ ۱۹۱۴ء) احمدی سلسله میں یہ خلیفتہ المسیح اور عام طور پر مسلمانوں میں اپنے تبحر علمی اور زہد و انتقاء کی خوبیوں سے نہایت محترم اور اسلام کے محاسن اور اس کی اشاعت میں کوشاں تھے۔ان کی زندگی میں ہزار ہا ایسے موقعے آئے کہ ان کی آزمائش ہوئی جس میں انہوں نے صداقت کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا اللہ تعالٰی نے جو جو فضل و کرم اور ثمرہ اعتماد و صبرا نہیں بخشا تھا۔اس کی تفصیل سوانح عمری میں پائی جاتی ہے۔جس سے دل پر نقش ہو تا ہے کہ وہ ایک بچے خدا پرست اور پکے موحد تھے۔اور ان کی زندگی اسلام کے پاک نمونہ پر بسر ہوئی۔وہ صرف مذہبی پیشوا نہیں تھے بلکہ اعلیٰ درجہ کے طبیب بھی تھے۔اور اعلیٰ درجہ کی کتابوں کے فراہم کرنے اور خلق اللہ کو فائدہ پہنچانے کا خاص ذوق تھا۔اخبار بھارت (۲۰/ مارچ ۱۹۱۴ء) آپ درویس منش اور منکسر المزاج خلیق اور ملنسار تھے۔عالم با کمال اور طبیب بے مثال تھے۔مذہب کا آپ کو اتنا خیال تھا کہ ایام علالت میں بھی قرآن شریف کے ترجمے میں گہری دلچسپی لیتے رہے۔اخبار آفتاب (۱۹) مارچ ۱۹۱۴ء) احمدی جماعت کے خلیفتہ المسیح مولوی حکیم نورالدین صاحب نے جو ایک متبحر عالم اور جید فاضل تھے۔کئی مہینے کی مسلسل علالت کے بعد جمعتہ المبارک کے دن ٹھیک پونے دو بجے اس دار فانی سے عالم جاودانی کو کوچ کیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون ہمیں اپنے احمدی دوستوں سے اس قومی و مذہبی صدمہ میں دلی ہمدردی ہے اور ہماری دعا ہے کہ خداوند کریم ان کو صبر عطا فرمادے۔" مولونی انشاء اللہ خان صاحب ایڈیٹر ” وطن اخبار " (امرت سر) (۲۰/ مارچ ۱۹۱۴ء) مولوی صاحب مرحوم کیا بلحاظ طبابت و حذاقت اور کیا بلحاظ سیاحت علم و فضیلت و علمیت ایک