تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 532 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 532

تاریخ احمد ثیمت - جلد ۳ 524 خلافت اولی کے آخری ایام لدین صاحب جو علم دینیہ کے بھی متجر عالم با عمل تھے اور جماعت احمدیہ کے محترم پیشوا کچھ عرصہ عوارض ضعف پیری میں مبتلا رہ کر آخر جمعہ گزشتہ کو قریباً اسی سال کی عمر میں رحلت فرما گئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔حکیم صاحب مغفور بلا امتیاز احمدی و غیر احمدی یا مسلم یا غیر مسلم سب کے ساتھ شفقت علی خلق اللہ کا ایک اعلیٰ نمونہ تھے۔آپ کے طریق علاج میں یہ چند باتیں خصوصیت سے قابل ذکر ہیں۔(1) یا رو اغیار - مومن و کافرسب کو ایک نظر دیکھنا۔(ب) طب یونانی و ویدک کے علاوہ مناسب موقعہ ڈاکٹری مجربات سے بھی ابنائے ملک و ملت کو مستفید فرمانا۔(ج) بعض خطرناک امراض کا علاج قرآن شریف سے استخراج کرنا۔(و) دوا کے علاوہ دعا بھی کرتا۔(0) علاج معالجہ کے معاملہ میں کسی کی دنیوی و جاہت سے مرعوب نہ ہوتا۔(3) مریضوں سے مطلق طبع نہ رکھنا اور آپ کا اعلیٰ درجہ تو کل و استغفار۔(ز) نادار مستحق مریضوں کا نہ صرف علاج مفت کرنا بلکہ اپنی گرہ سے بھی ان کی دستگیری و پرورش کرنا خصوصاً طلباء قرآن و حدیث و طب کی۔اخبار انسٹیٹیوٹ گزٹ (علی گڑھ) (۱۸/ مارچ ۱۹۱۴ء) قطع نظر اپنے مختص الفرقہ بعض خاص معتقدات کے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حکیم صاحب مرحوم ایک نہایت بلند پایہ عالم عامل اور علوم دینیہ کے بہت بڑے خادم تھے اس پیرانہ سالی اور ضعف و مرض کی حالت میں بھی آپ کا پیشتر وقت تعلیم و تعلم میں صرف ہو تا تھا۔اور ایک طبیب حاذق ہونے کی حیثیت سے بھی آپ خلق اللہ کی بہت خدمت بجالاتے تھے۔اس لحاظ سے مرحوم کا انتقال واقعی سخت رنج و ملال کے قابل ہے۔منشی محمد الدین صاحب فوق کشمیری میگزین (لاہور) (۲۱ / مارچ ۱۹۱۴ء) نہایت رنج دافسوس سے لکھا جاتا ہے کہ حکیم حافظ حاجی مولوی نور الدین صاحب جو بلحاظ عقائد جماعت احمدیہ کے خلیفتہ المسيح بلحاظ علم و فضل مسلمانوں کے مایہ ناز اور بلحاظ ہمدردی عوام انسانیت کے لئے مایہ افتخار تھے۔کچھ عرصہ کی علالت کے بعد ۱۳/ مارچ کو بعد دو پہر دو بجے قادیان میں انتقال فرما گئے۔مولوی نور الدین صاحب کی وفات پر احمدی اخبارات کے علاوہ تمام اسلامی اخبارات نے باوجود ان کے مذہبی عقائد سے اختلاف رکھنے کے نہایت رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ مولوی نور الدین جیسا