تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 531 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 531

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 523 خلافت اوٹی کے آخری ایام اے فخر رسل قرب تو معلوم شد ویر آمده زراه آمده" رور ملکی پریس کے تبصرے حضرت خلیفہ اول کے انتقال پر بر صغیر پاک وہند کے پریس نے بکثرت تبصرے لکھے ان میں سے بعض کا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے:۔مولوی ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر زمیندار (لاہور) "مولوی حکیم نورالدین جو ایک زیر دست عالم اور جید فاضل تھے ۱۳ / مارچ کو کئی ہفتہ کی مسلسل علالت کے بعد دنیا ئے فانی سے عالم جاودانی کو رحلت کر گئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔۔۔مولانا حکیم نور الدین صاحب کی شخصیت اور قابلیت ضرور اس قابل تھی جس کے فقدان پر تمام مسلمانوں کو رنج اور افسوس کرنا چاہئے کہا جاتا ہے کہ زمانہ سو برس تک گردش کرنے کے بعد ایک باکمال پیدا کرتا ہے۔الحق اپنے تجر علم و فضل کے لحاظ سے مولانا حکیم نور الدین بھی ایسے ہی باکمال تھے افسوس کہ آج ایک زبردست عالم ہم سے ہمیشہ کے لئے جد اہو گیا"۔مولانامحمد علی صاحب جو ہر اخبار ہمد رد (دہلی) " مرحوم فرقہ احمدیہ کے ممتاز ترین رکن تھے اور اعلیٰ درجہ کی مذہبی قابلیت کے رکھنے کے علاوہ ایک مشہور طبیب بھی تھے۔منشی محبوب عالم صاحب ایڈیٹر پیسہ اخبار (لاہور) آپ نے متعدد کتابیں اسلام کی تائید میں لکھیں اور متانت کے ساتھ معترضوں کو دندان شکن جواب دئے۔اور بعض تصانیف میں برای تحقیق و تدقیق کا ثبوت بہم پہنچایا۔سب سے زیادہ شہرت و عزت اپنی جماعت میں آپ کو قرآن شریف کے (حقائق و معارف کی تشریح کے باعث حاصل ہوئی۔جس میں آپ علوم جدیدہ و تازه تحقیقات فلسفیہ پر نظر رکھتے تھے اور اسلام کو فطرت کے مطابق ثابت کرتے تھے۔مولانا حامد انصاری صاحب ایڈیٹر مدینہ (بجنور) آپ احمدی جماعت کے رکن رکین اور مرزا غلام احمد صاحب کے حقیقی جانشین تھے۔آپ کی وفات احمدی جماعت کے لئے بہت زیادہ موجب افسوس ہے "۔مولانا ابوالکلام صاحب آزاد ایڈیٹر "الحلال" (کلکتہ) حضرت مولوی حکیم نور الدین صاحب بھیروی ثم قادیانی وہ علامہ دہر تھے جن کی ساری عمر قرآن شریف کے پڑھنے اور پڑھانے میں گزری۔ہر مذہب وملت کے خلاف اسلام کا رد آپ نے آیات قرآنی سے کیا۔آپ کے پاس علم تفسیر کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔اخبار طبیب (دہلی) افسوس کہ ہندوستان کے ایک مشہور و معروف طبیب مولوی حاجی حافظ