تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 530
تاریخ احمدیت جلد ۳ 522 خلافت اولی کے آخری ایام میں انسان ہوں اور کمزور انسان۔مجھ سے کمزوریاں ہوں گی تو تم چشم پوشی کرنا۔تم سے غلطیاں ہوں گی۔میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر عہد کرتا ہوں کہ میں چشم پوشی اور درگزر کروں گا۔میرا اور تمہارا متحدہ کام اس سلسلہ کی ترقی اور اس سلسلہ کی غرض وغایت کو عملی رنگ میں پیدا کرنا ہے۔۔۔۔اگر اطاعت اور فرمانبرداری سے کام لو گے۔اور اس عہد کو مضبوط کرو گے تو یا د رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہماری دستگیری کرے گا"۔اس بیعت اور اس تقریر کے بعد لوگوں کی طبیعتوں میں کامل سکون تھا اور ان کے دل اس طرح تسلی پا کر ٹھنڈے ہو گئے تھے جس طرح کہ ایک گرمی کے موسم کی بارش جھلسی ہوئی زمین کو ٹھنڈا کر دیتی ہے۔روح القدس نے آسمان پر سے ان کے دلوں پر سکینت نازل کی اور خدا کے مسیح کی یہ بات ایک دفعہ پھر پوری ہوئی کہ :۔میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے"۔حضرت خلیفہ اول کی تدفین دعا اور تقریر کے بعد حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے تعلیم الاسلام ہائی سکول کے شمالی میدان میں قریباً دو ہزار مردوں اور کئی سو عورتوں کے مجمع میں حضرت خلیفہ اول کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر حضور کی معیت میں مخلصین کا یہ بھاری مجمع جس کے ہر متنفس کا دل اس وقت رنج و خوشی کے دہرے جذبات کا مرکز بنا ہوا تھا حضرت خلیفہ اول کی نعش مبارک کو لے کر بہشتی مقبرہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اس مبارک انسان کے مبارک وجود کو ہزاروں دعاؤں کے ساتھ اس کے آقا و محبوب کے پہلو میں سلا دیا۔اے جانیوالے الجھے تیرا پاک عہد خلافت مبارک ہو کہ تو نے اپنے امام و مطاع مسیح کی امانت کو خوب نبھایا اور خلافت کی بنیادوں کو ایسی آہنی سلاخوں سے باندھ دیا کہ پھر کوئی طاقت اسے اپنی جگہ سے ہلا نہ سکی۔جا۔اور اپنے آقا کے ہاتھوں سے مبارکباد کا تحفہ لے کر اور رضوان یار کا ہار پہن کر جنت میں ابدی بسیرا کر۔اور اے آنے والے اتجھے بھی مبارک ہو کہ تو نے سیاہ بادلوں کی دل ہلا دینے والی گرجوں میں مسند خلافت پر قدم رکھا اور قدم رکھتے ہی رحمت کی بارشیں برسادیں۔تو ہزاروں کانپتے ہوئے دلوں میں سے ہو کر تخت امامت کی طرف آیا۔پھر صرف ایک ہاتھ کی جنبش سے ان تھراتے ہوئے سینوں کو سکینت بخش دی۔آ۔اور ایک شکور جماعت کی ہزاروں دعاؤں اور تمناؤں کے ساتھ ان کی سرداری کے تاج کو قبول کر۔تو ہمارے پہلو سے اٹھا ہے مگر بہت دور سے آیا۔آ۔اور ایک قریب رہنے والے کی محبت اور دور سے آنے والے کے اکرام کا نظارہ دیکھ