تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 529 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 529

تاریخ احمدیت جلد ۳ کامیاب ہو گئے۔521 خلافت اوٹی کے آخری ایام خان حشمت الله ۲۴/۱۱/۲۴ (مراسله بنام مورخ احمدیت۔غیر مطبوعہ ) حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بیعت کے بعد لمبی دعا ہوئی جس میں سب لوگوں پر تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعا اور تقریر رقت طاری تھی۔اور پھر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس مجمع میں کھڑے ہو کر ایک درد انگیز تقریر فرمائی جس میں جماعت کو اس کے نئے عہد کی ذمہ داریاں بتا کر آئندہ کام کی طرف توجہ دلائی اور اس دوران میں کہا میں ایک کمزور اور بہت ہی کمزور انسان ہوں مگر میں خدا سے امید رکھتا ہوں کہ جب اس نے مجھے اس خلعت سے نوازا ہے تو وہ مجھے اس بوجھ کے اٹھانے کی طاقت دے گا۔اور میں تمہارے لئے دعا کروں گا اور تم میرے لئے دعا کرو۔چنانچہ فرمایا :- دوستو ! میرا یقین اور کامل یقین ہے کہ اللہ تعالی ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔پھر میرا یقین ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں۔۔۔پھر میرا یقین ہے کہ قرآن مجید وہ پیاری کتاب ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی اور وہ خاتم الکتاب اور خاتم شریعت ہے۔پھر میرا یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام وہی نبی تھے جس کی خبر مسلم میں ہے اور وہی امام تھے جس کی خبر بخاری میں ہے مگر میں پھر کہتا ہوں کہ شریعت اسلامی کا کوئی حصہ اب منسوخ نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔خوب غور سے دیکھ لو اور تاریخ اسلام میں پڑھ لو کہ جو ترقی اسلام کے خلفاء راشدین کے زمانہ میں ہوئی وہ جب خلافت حکومت کے رنگ میں تبدیل ہو گئی تو گھٹتی گئی۔تیرہ سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے منہاج نبوت پر حضرت مسیح موعود کو آنحضرت کے وعدہ کے موافق بھیجا اور ان کی وفات کے بعد پھر وہی سلسلہ خلافت راشدہ کا چلا ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح مولوی نور الدین صاحب ان کا درجہ اعلیٰ ملین میں ہو اس سلسلہ کے پہلے خلیفہ تھے۔پس جب تک یہ سلسلہ چلتا رہے گا اسلام مادی اور روحانی طور پر ترقی کرتا رہے گا۔۔۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرے دل میں ایک خوف ہے اور میں اپنے وجود کو بہت ہی کمزور پاتا ہوں۔۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں کہ میں کمزور اور گند گار ہوں میں کس طرح دعوی کر سکتا ہوں کہ میں دنیا کی ہدایت کر سکوں گا اور حق اور راستی کو پھیلا سکوں گا۔ہم تھوڑے ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم اور غریب نوازی پر ہماری امیدیں بے انتہاء ہیں۔تم نے یہ بوجھ مجھ پر رکھا ہے۔تو سنو! اس ذمہ داری سے عہدہ بر آہونے کے لئے میری مدد کرو اور وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ سے فضل اور توفیق چاہو اور اللہ تعالی کی رضا اور فرمانبرداری میں میری اطاعت کرد۔