تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 528
تاریخ احمد بیت - جلد ۳ 520 خلافت اولی کے آخری ایام تو میں نے اپنی گرم چادر مولوی صاحب کی سیٹ پر بچھادی اور مولوی صاحب کے بیان کی طرف خاص طور پر کان لگائے حضرت مولوی صاحب نے بٹالہ پہنچنے تک خلافت کے قیام کی ضرورت اور اس کے دلائل لگا تار بیان کئے بٹالہ پہنچ کر ہم مولوی صاحب سے سواری کے لحاظ سے جدا ہو گئے ہم دونوں نے سالم یکہ کرایہ پر لیا۔جب یکہ وڈالہ گر نتھیاں کے قریب پہنچا تو ہم نے مستری موسیٰ کو قادیان کی جانب سے بٹالہ کی طرف مع ایک دو ساتھی آتے دیکھا انہوں نے ہمارا ایکہ رکوالیا اور ایک تحریر ہمارے پیش کی جسے پہلے مولوی محمد مصطفیٰ صاحب نے پڑھا اور اس پر اپنے دستخط کر کے کاغذ میرے حوالے کر دیا میں نے کانز ہاتھ میں لے کر پڑھا اس پر یہ تحریر تھی۔آپ خدا تعالیٰ کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اپنی رائے ثبت کریں کہ آیا اب خلافت ہونی چاہئے یا نہیں ہونی چاہئے اگر ہونی چاہئے تو کیا دیسی ہی جیسی حضرت خلیفہ اول کی تھی یا کسی اور طرح کی میں نے اس عبارت کو پڑھ کر ہونی چاہئے اور ویسی ہی ہونی چاہئے جیسی حضرت خلیفہ اول کی تھی دستخط کر وئے۔ہمارا یکہ چل پڑا میں نے مصطفیٰ صاحب سے پوچھا کہ آپ نے مجھ سے مشورہ لئے بغیر کیوں دستخط کر دئے جب کہ امیر قافلہ میں تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ ایک واضح بات تھی کہ اس میں مشورہ کی ضرورت میں نے نہ جانی اور خلافت ہونی چاہئے پر رائے ثبت کر دی۔اس کے بعد ہمار ا تبادلہ خیالات ہوا کہ اب کون خلیفہ ہوں گے کون ہونے چاہئیں اور اثناء قیل و قال میں میں نے جب یہ کہا کہ مولوی محمد علی صاحب بھی ہو سکتے ہیں تو مولوی محمد مصطفیٰ صاحب بولے وہ نہیں ہو سکتے نہ معلوم کن وجوہ سے انہوں نے ایسا کہا مگر میرا یہ آیت پڑھنا یا ر ہے ان اکرمکم عند الله اتقاکم اس پر مصطفیٰ صاحب نے کہا رہنے دیں میں بھی اس کے ملنے جانتا ہوں وہ کچھ عربی دان تھے۔آخر یہ گفتگو بلا نتیجہ ختم ہوئی یعنی نہ مصطفیٰ کسی کا نام تجویز کر کے صاد کر سکے اور نہ میں کسی ایک کا نام حتمی طور پر پیش کر سکا یہاں تک قادیان پہنچ گئے مہمان خانہ میں کھانا کھانا تھا اور نماز کے لئے تیاری کر کے مسجد نور میں جلد از جلد پہنچنا تھا۔اسی اثنا میں مولوی مصطفی صاحب کو اعلان ضروری دانا ٹریکٹ کسی کے ہاتھ سے مل گیا جبکہ میرا ہاتھ اس سے پاک رہا۔مولوی صاحب نے بسرعت تمام ٹیکٹ پڑھ لیا اور اس کے پورے شکار ہو گئے اور مسجد نور میں بیعت کا شاندار نظارہ دیکھنے کے باوجو د بیعت سے مجتنب رہے اور پٹیالہ میں واپس پہنچ کر بعض کو اپنے ساتھ لے ڈوبے جن میں کئی ایک بڑی محنت صرف ہونے پر مبائع بن گئے مگر مصطفیٰ صاحب اپنے والد صاحب اور چھوٹے بھائی محمد مرتضی خان صاحب کو بحیثیت پیغامی پٹیالہ چھوڑ کر لاہور لے جانے میں