تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 527
تاریخ احمدیت جلد ۳ 519 خلافت اولی کے آخری ایام ناقابل تردید آسمانی شہادت یہ ہے کہ جماعت کے بہت سے دوستوں کو قبل از وقت خوابوں میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے خلیفہ بننے کی اطلاع دی گئی چنانچہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب کا بیان ہے کہ حضرت خلیفہ اول کے آخری ایام میں اللہ تعالیٰ نے مجھے بتلایا۔کہ آپ (یعنی حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) خلیفہ ہو گئے ہیں اور لوگ آپ کی بیعت کر رہے ہیں ماسٹر صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ نے پھر بیعت کیوں نہ کی۔تو انہوں نے کہا کہ رویا میں مجھے تو نہیں کہا گیا تھا کہ میں بیعت کروں پس اگر یہ سازش تھی۔تو خداتعالی اور اس کے فرشتے اس سازش میں برابر کے شریک تھے 11 سازش کے الزام کے ثبوت میں سب سے بڑی دلیل یہ دی گئی کہ انصار اللہ نے حضرت خلیفتہ المسیح کی وفات کے قریب ایک کارڈ بھیجا تھا کہ " حالت نہایت نازک ہے ضعف بڑھتا جاتا ہے جس سے بجائے دنوں کے اب عمر کا اندازہ گھنٹوں میں کیا جاتا ہے"۔حق یہ ہے کہ یہ کارڈ انصار اللہ نے تمام انجمن ہائے احمدیہ کے سیکرٹریوں کو لکھا تھا جس میں مولوی محمد علی صاحب کے ہم خیال لوگ بھی شامل تھے پس اس کارڈ سے فقط می نتیجہ نکل سکتا ہے کہ انجمن انصار اللہ چاہتی تھی کہ اس موقعہ پر جماعت کے زیادہ سے زیادہ نمائندے مرکز میں موجود ہوں تا مشورہ ہو سکے۔- انتخاب خلافت ثانیہ سے متعلق ایک عینی شہادت سید نا حضرت مسیح موعود کے رفیق خاص حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔"خاکسار عرض کرتا ہے یہ کارڈ مجھے بھی موصول ہوا تھا کیونکہ میں ان دنوں جماعت پٹیالہ کا سیکرٹری تھا۔یہ جمعہ کا دن تھا جب کارڈ موصول ہوا اور میں نے اس کو نماز جمعہ کے وقت احباب جماعت کے سامنے پیش کر دیا تھا اس کارڈ کے مضمون کے پیش نظر احباب نے مجھے قادیان جانے کے لئے منتخب کیا تھا اور میں اسی شام کی مناسب گاڑی سے روانہ ہو گیا۔مرحوم مکرم محمد مصطفیٰ خان صاحب بی۔اے ابن حضرت مولوی محمد عبد اللہ خان صاحب سابق پریذیڈنٹ جماعت پٹیالہ بھی میرے ساتھ قادیان کے لئے چل پڑے۔اس سے پہلے آنحترم قادیان نہ گئے تھے حالانکہ وہ بہت پرانے عالم صحابی کے فرزند تھے یعنی ان کی پرورش احمدیت کے ماحول میں ہوئی تھی۔ہم ہفتہ کے روز صبح ۷ - ۸ بجے امر تسر پہنچے تو وہاں پر معلوم ہوا کہ حضرت خلیفہ اول کا کل وصال ہو چکا ہے اور تدفین آج شام کو عمل میں آئے گی اسی اسٹیشن پر لاہور کی جانب سے حضرت مولوی محمد احسن صاحب بھی فروکش ہوئے ان کو دیکھ کر میرا دل بہت خوش ہوا اس وقت میری رائے یہ تھی کہ اب خلیفہ مولوی صاحب ہوں گے کہ وہ دو فرشتوں میں سے ایک فرشتہ شمار کئے جاتے تھے چنانچہ میں نے مولوی صاحب کی عزت اور توقیر خاص طور پر کرنا شروع کر دی۔جب بٹالہ کی ٹرین میں سوار ہوئے