تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 505 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 505

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 497 خلافت اوٹی کے آخری ایام دن آپ کے صاحبزادے مولوی عبدالحی مرحوم کو انگریزی پڑھانے کا فخر حاصل ہوا۔ان ایام میں انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ میں نے ابا جان سے پوچھا کہ جب آپ مولوی محمد علی صاحب کو قرآن شریف پڑھاتے ہیں۔تو اکثر دفعہ آیات کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس میں یزید کی طرف اشارہ ہے۔لیکن جب میں آپ سے قرآن شریف پڑھتا ہوں تو آپ نے کبھی ایسا نہیں کہا۔آپ نے جواب دیا میں ان لوگوں سے اس لئے محبت کرتا ہوں کہ میری بات ان پر اثر کرے میرے بعد جو خلیفہ ہو گا اگر ان لوگوں نے اس کی بیعت کرلی تو سمجھتا کہ یہ لوگ میری محبت کے مستحق تھے۔لیکن اگر انہوں نے اس کی بیعت نہ کی۔تو سمجھنا کہ ان جیسا کوئی نہیں (یہاں آپ نے ایک نہایت سخت لفظ استعمال کیا جو ایمانی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے " جلسہ چکوال میں شمولیت کے لئے حضرت صاجزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سفر چکوال ایدہ اللہ تعالٰی ۲۴/ جنوری ۱۹۱۴ ء کو مفتی فضل الرحمن صاحب کے ہمراہ قادیان سے روانہ ہوئے۔لاہور پہنچ کر آپ نے ۲۵/ جنوری کی شام کو جماعت لاہور کی درخواست پر میاں چراغ دین صاحب کے مکان پر ایک پر معارف لیکچر دیا۔جس میں آیت ادعونی استجب لکم کی تفسیر کرتے ہوئے آپ نے زمانہ حال کے مسلمانوں کا صحابہ کی قربانیوں سے مقابلہ کیا اور آخر میں جماعت کو تبلیغ حق کی ضرورت و اہمیت بتائی اور ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔تقریر کے بعد آپ ابجے شب لاہور سے روانہ ہو کر ۳ بجے جہلم پہنچے۔۲۶/ جنوری کو نماز ظہر کے بعد آپ نے ایک تقریر فرمائی جو سورہ فاتحہ پر تھی۔نماز مغرب کے بعد حضرت حافظ روشن علی صاحب کا وعظ سوره والعصر پر ہوا۔۲۷/ جنوری کو آپ بے صبح جہلم سے بذریعہ ریل میند را اسٹیشن پر اترے اور ۹ بجے ٹانگہ پر سوار ہو کر شام کو چھ بجے چکوال رونق افروز ہوئے۔راستہ میں چک نورنگ کے احمدی علاقہ دار بابو غلام حیدر صاحب اور سید رکن شاہ علاقہ دار اور سید اللہ دتہ نمبردار چوہان استقبال کے لئے موجود تھے۔چکوال میں ایک مختصر سے خطاب کے بعد ۲۹/ جنوری کو ٹانگے پر سوار ہو کر چک نورنگ تشریف لے گئے جہاں شام کو مردوں اور عورتوں میں الگ الگ وعظ کیا۔چک نورنگ سے آپ گھوڑی پر سوار ہو کر ۳۰/ جنوری کو چوہان پہنچے اور جمعہ پڑھانے کے بعد ایک عام لیکچر دیا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کھول کھول کر بیان فرمائی یہ تقریر بڑی دلپذیر تھی اور لوگوں پر اس کا گہرا اثر ہوا۔اگلے دن ۳۱/ جنوری آدھی رات کو آپ چوہان سے بذریعہ ریل جہلم پہنچے اور صبح جو بلی گھاٹ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر زبر دست لیکچر دیا۔لیکچر گاہ باوجود مخالفت کے پر تھی۔