تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 483
تاریخ احمدیت جلد ۳ 475 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء حضرت خلیفہ اول کو یہ صدمہ آخر دم تک فراموش نہیں ہوا۔بلکہ دراصل یہی غم واندادہ آپ کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔چنانچہ آپ نے مرض الموت میں لاہور کے متعلق نہایت برہم ہو کر فرمایا۔" میں تو لاہور کو جانتا نہیں وہ ایسا قصبہ ہے جہاں سے مجھ کو ایسے بڑھاپے میں اس قدر تکلیف پہنچی ہے"۔اخبار الحق نے اول یہ تجویز رکھی کہ جلد۔سالانہ پر جماعت کی "الحق" کازبردست احتجاج طرف سے ٹریکٹوں کے خلاف ایک قرارداد مذمت پاس کی جائے۔دوسرے پیغام صلح کے متعلق مندرجہ ذیل نوٹ لکھا کہ : میرا اور ہر بچے احمدی کا خیال غالب یہ تھا کہ چونکہ ٹریکٹ مذکور لاہور سے شائع ہوا ہے اور لاہور کے بعض بزرگان کی نسبت اکثربد گمانیاں کسی نہ کسی وجوہات پر پھیلی ہوئی ہیں اس لئے امید قوی ہے کہ دائی کا ایسا نوٹ جو لاہور سے شائع ہوا ہے پڑھ کر ضرور ہی بزرگان لاہور اس کی تردید اور اپنی بریت میں پوری سعی کر کے اپنی بیزاری کا اعلان کریں گے مگر افسوس کہ مہرباں جن کو سمجھتے تھے ستم گر نکلے لعل کا جن یہ گماں کرتے تھے پتھر نکلے خلاف امید بجائے بیزاری کے ایسا دل شکن اور دلخراش پیغام نکلا جس نے اکثر حصہ احباب کو حیرت اور تعجب میں ڈال دیا۔جس پیغام صلح کی طرف سب کی آنکھیں لگی ہوئی تھیں کہ وہ بشارت کا پیغام لے کر نکلے گا۔اس نے ۱۶/ نومبر کے پرچہ میں سخت نا مبارک پیغام پہنچایا۔جو ایک ایسے شخص کی طرف سے دیا گیا ہے۔جس پر میرا تو ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ وہم وگمان نہ تھا کہ وہ ایسے پر نجاست ٹریکٹ کو منظور کریں گے بلکہ انعام کا بھی اس پر اضافہ ہو گا۔افسوس صد افسوس کہ پیغام صلح آخر کار پیغام جنگ ہی بن گیا۔ނ جو کھلی چٹھی محمد منظور الی صاحب نے احمدی ہو کر انعام اللہ کی تصدیق سے بنام انصار اللہ شائع کی ہے وہ نہ صرف را قم و مصدق کے لئے ہی باعث شرم و غیرت تھی بلکہ پیغام صلح کے چہرہ پر بھی ایک بد نما سیاہ داغ ہے جو پیغام کے چہرہ کو شب دیجور بنا دیتا ہے۔کیا مدعیان صلح جو اس بد شعار داعی کی بے نامی مستفید ہو رہے تھے۔وہ ان نام آوروں کی دلیری سے بد نام نہیں ہو گئے۔اور ان ہر دو کارکنان پیغام صلح نے پردہ اٹھا کر سارا بھانڈا نہیں پھوڑ دیا۔مجھے تو یہ خوشی ہوئی ہے کہ سید ناد مرشد نا حضرت خلیفتہ المسیح والمهدی ایدہ اللہ بصرہ کے فرمائے ہوئے پاک کلمات کہ پیغام صلح دوسروں کے لئے پیغام صلح ہے مگر ہمارے لئے پیغام جنگ بہت ہی جلد بچے ثابت ہو کر پورے ہو گئے "۔