تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 476
تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 468 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء ۲۶-۲۵/ اکتوبر ۱۹۱۳ء کو گوجرانوالہ میں جلسہ منعقد ہوا۔جس میں گوجرانوالہ میں جلسہ حضرت حافظ روشن علی صاحب ، حضرت مفتی محمد صادق صاحب، شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور مولوی صدر الدین صاحب اور ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کے علاوہ حضرت صاجزادہ صاحب کا بھی لیکچر ہوا۔اس لیکچر کا خلاصہ یہ تھا کہ اس امت کی اصلاح کے لئے پہلے کسی نبی کو لانے میں آنحضرت ا بلکہ خدا تعالیٰ کی بھی بنک ہے۔کیا خدا قادر نہیں کہ ایک نیانی پیدا کرے؟ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ نبوت تشریعی اور غیر تشریعی دو رنگ کی ہوتی ہے۔موجودہ وقت میں مسلمانوں کی حالت کھلے طور پر ایک مصلح کی آمد کا تقاضا کر رہی ہے۔اب آنے والے کو دیکھو کہ اس کے آنے سے آنحضرت ﷺ کی عزت دوبارہ قائم ہوئی یا نہیں۔آنحضرت سے جو عشق و محبت حضرت مرزا صاحب کے دل میں تھی۔اس کا نمونہ تاریخ اسلام میں نظر نہیں آتا۔اگر آپ اسلام کے فدائی نہ تھے تو یہ عشق رسول آپ کے دل میں کہاں سے آگیا؟ گوجرانولہ سے واپسی پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے مستری موسیٰ صاحب کی دکان (واقعہ نیلہ گنبد) سنگ بنیاد رکھا اور لاہور سے قادیان تشریف لے آئے۔101 ۳۰ اکتوبر ۱۹۱۳ء کو حضرت خلیفہ حضرت مولوی شیر علی صاحب کے مکان کی بنیاد اول دار العلوم میں ٹانگہ پر تشریف لے گئے پہلے مولوی شیر علی صاحب کے مکان کی بنیاد رکھی۔دوائیں خود اپنے دست مبارک سے اور تیسری حضرت صاحبزادہ صاحب کے ہاتھ سے ازاں بعد آپ نے مدرسہ تعلیم الاسلام اور بورڈنگ کا معائنہ فرمایا۔لڑکوں کے کھیل بھی دیکھے اور ارشاد فرمایا کہ کرکٹ کیوں نہیں کھیلتے۔ہم اس میں روپیہ دیں گے۔جماعت احمدیہ لکھنؤ کا سالانہ جلسہ ۹-۸-۷/ نومبر ۱۹۱۳ء کو انجمن احمد یہ لکھنو کا سالانہ جلسہ ہوا۔جس میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب حضرت مولوی سرور شاہ صاحب اور حضرت میر قاسم علی صاحب نے لیکچر دیا۔حضرت مفتی صاحب نے اہل لکھنو کے لئے ”نو لکھا ہار" کے عنوان سے ایک دلچسپ مضمون سنایا۔بعد ازاں آپ نے جب بائبل سے آنحضرت کا نام محمد میں دکھایا تو جلسہ میں احسنت و مرحبا کے نعرے بلند ہوئے۔- ۱۸/ نومبر ۱۹۱۳ ء کو اللہ تعالیٰ نے حضرت حضرت خلیفہ اول کے پانچویں بچہ کی ولادت خلیفہ اول کو اپنے فضل سے پانچواں فرزند عطا فرمایا۔جس کا نام آپ نے عبداللہ رکھا۔یہ بیٹا ایک نشان تھا کیونکہ جن دنوں حضرت