تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 475 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 475

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 467 اخبار " الفضل " اور "پیغام صلح " کا اجراء ضلع گورداسپور میں ایک گاؤں اٹھوال ہے جس اٹھوال کا گاؤں آغوش احمدیت میں کے غیر احمد ہی دوستوں نے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو مباحثہ کے لئے مدعو کیا۔مگر جب ان کو بتایا گیا کہ مباحثہ "مسئلہ حیات مسیح" پر ہو گا۔تو انہوں نے صاف کہہ دیا کہ حضرت مسیح کا جنازہ ہی پڑھ دو۔جس پر سارا گاؤں آغوش احمدیت میں آگیا۔یہ ستمبر ۱۹۱۳ ء کا واقعہ ہے۔1 ترجمہ قرآن مجید اور کتب احادیث کی اشاعت کی تحریک جیسا کہ ترجمہ قرآن انگریزی کے حالات میں اجمالاً ذکر آچکا ہے۔حضرت میر ناصر نواب صاحب نے مسجد نور اور دور الضعفاء اور ہسپتال کے لئے چندہ کی فراہمی کے بعد جماعت کی طرف سے قرآن مجید کے مستند اردو ترجمہ اور بخاری اور دوسری اسلامی کتب کے تراجم شائع کرنے کی تحریک کی اور حضرت خلیفہ اول سے درخواست کی کہ ” آپ مجھے ترجمہ اور نوٹ عنایت فرما دیں نیز۔۔کچھ روپیہ بھی بخشیں"۔حضرت خلیفہ اول نے اس تحریک پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے دعا فرمائی۔اور اعانت کا وعدہ فرمایا۔۱۹۱۳ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر حضرت صاحبزادہ صاحب کی ایک اہم تجویز الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صدرانجمن احمدیہ کے طریق کار کی بعض خامیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے یہ اہم تجویز رکھی کہ اس وقت مجلس معتمدین جس طرز پر ہوتی ہے۔وہ بہت غلط ہے بہت سے ایسے معاملات ہوتے ہیں کہ جن کو بیرونی ممبر ا چھی طرح سمجھ نہیں سکتے۔ان کی رائے ان معاملات پر سوائے کام میں حرج پیدا کرنے کے اور کسی کام کی نہیں ہوتی۔چنانچہ بعض دفعہ کثرت رائے زبردست ہوتی ہے۔تو وہ ایسی تحریری رائے کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں۔اگر مائنارٹی (Minority) زبر دست ہو۔تو وہ یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ اب تو رائے آگئی ہے کیا ہو سکتا ہے۔لہذا بعض معاملات کو جو مقامی ہوں قادیان کے ممبران ہی فیصلہ کر لیا کریں اور صرف ایسے امور جن پر بیرونی ممبران کی رائے کچھ وقعت رکھے اس میں بیرونی ممبروں کی رائے طلب کی جائے اس کے لئے قادیان کے موجودہ ممبروں کی ایک سب کمیٹی ہونی چاہئے اور اس کے اختیارات کے لئے ایک سب کمیٹی بنائی جائے جو یہ فیصلہ کرے کہ کونسے امور مقدم الذکر سب کمیٹی میں پیش ہوں اور کون سے مجلس معتمدین میں؟ لیکن افسوس مجلس معتمدین نے یہ تجویز غیر ضروری قرار دے دی۔