تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 474 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 474

تاریخ احمدیت جلد ۳ 466 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء اور مجھے تنگ کرنا شروع کیا تب مجھے معا خیال آیا کہ فرشتہ نے مجھے کہا تھا کہ ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتے ہوئے چلے جانا۔اس پر میں نے ذرا بلند آواز سے یہ فقرہ کہنا شروع کیا اور وہ لوگ چلے گئے۔اس کے بعد پھر پہلے سے بھی زیادہ خطرناک راستہ آیا۔اور پہلے سے بھی زیادہ بھیانک شکلیں نظر آنے لگیں۔حتی کہ بعض سرکٹے ہوئے جن کے ساتھ دھڑ نہ تھے۔ہوا میں معلق میرے سامنے آتے اور طرح طرح کی شکلیں بناتے اور منہ چڑاتے اور چھیڑتے مجھے غصہ آتا لیکن معافرشتہ کی نصیحت یاد آجاتی اور میں پہلے سے بھی بلند آواز سے خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہنے لگتا۔اور پھر وہ نظارہ بدل جاتا یہاں تک کہ سب بلا ئیں دور ہو گئیں اور میں منزل مقصود پر خیریت سے پہنچ گیا۔اس رویاء کے بعد آپ کا آج تک یہ التزام رہا ہے کہ جو مضمون بھی تحریر فرماتے ہیں اس کے اوپر بسم الله الرحمن الرحیم کے بعد " خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " ضرور لکھتے ہیں۔حضرت خلیفہ اول نے حضرت صاحبزادہ صاحب کو لکھا کہ لمبا عرصہ آپ کا باہر رہنا میں پسند نہیں کرتا۔اس لئے آپ جلد انبالہ سے ہوتے ہوئے واپس قادیان تشریف لے گئے۔انبالہ میں آپ نے دو روز قیام فرمایا۔ایک رات انبالہ صدر میں دوسری رات انبالہ شہر میں۔شہر میں آپ نے لیکچر بھی دیا جو ایساد لچسپ اور پر از معلومات تھا کہ سامعین کو لیکچر ختم ہونے کے باوجود اس کے جاری رکھنے کا بے پناہ اشتیاق تھا۔لیکچر کا عنوان تھا کہ آیا احمدی عقائد سے اسلام کا زندہ مذہب ہونا اور خدائے اسلام کا جلال و جبروت و رحمت اور آنحضرت ﷺ کی شان ارفع و اعلیٰ ثابت ہوتی ہے یا غیر احمدی عقائد سے ؟ خان صاحب برکت علی صاحب شملوی کی روایت ہے کہ ۱۹۱۳ء کے اواخر میں جب حضرت میاں صاحب شملہ سے واپس گئے تو حضرت مولوی صاحب (حضرت خلیفہ اول مراد ہیں۔ناقل) نے اور باتوں کے علاوہ یہ بھی پوچھا۔کہ شملہ کی جماعت کس طرف ہے۔ہماری طرف یا خواجہ صاحب کی طرف۔حضرت میاں صاحب نے جواب دیا کہ حضور وہ تو کچھ خواجہ صاحب کی طرف جھکے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔اس کے بعد حضرت مولوی صاحب نے پوچھا کہ برکت علی کدھر ہے ؟ حضرت میاں صاحب نے جواب دیا کہ وہ تو ہماری طرف ہے اس پر آپ نے فرمایا کہ ہاں بے شک ہم جانتے تھے کہ وہ ہماری طرف ہو گا۔کیونکہ وہ بڑا مخلص ہے۔۔۔اس سے مفصلہ ذیل نتائج بر آمد ہوتے ہیں۔اول حضرت مولوی صاحب کو اختلاف کا علم تھا۔دوم۔وہ حضرت میاں صاحب سے متفق تھے۔سوم۔خواجہ صاحب کے خیالات والوں کو اپنے مخالف جانتے تھے۔چہارم۔ان کو یہ یقین تھا کہ جو احمدی مخلص ہو گاوہ ضرور خواجہ صاحب کے خلاف اور حضرت میاں صاحب کے ساتھ ہو گا"۔