تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 473 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 473

تاریخ احمدیت۔جلد ۳ 465 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء قطعی اجتناب کرتے بلکہ خواجہ صاحب تو صاف کہتے تھے کہ احمدیت کے نام سے لوگ آتے نہیں۔میں عام مضامین سن کر سفر مینا کا کام کرتا ہوں یعنی لوگوں کو احمدیت کے لئے تیار کرتا ہوں۔دوسری خصوصیت ان عمائد کی یہ تھی کہ یہ باتوں باتوں میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا ذکر چھیڑ دیتے تھے اور بظاہر تعریف کر کے یہ ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتے کہ وہ لیڈر بننے کے اہل نہیں ان کی کارروائیوں سے ظاہر ہوتا تھا کہ ان کو یہ خوف تھا کہ حضرت خلیفہ اول کے بعد کہیں وہ خلیفہ نہ ہو جائیں اور گو ان کو پہلے ہی جماعت میں خاصار سوخ حاصل تھا۔پھر بھی انہوں نے دورہ کر کے تمام جماعت میں اپنے رسوخ کو اور بڑھانا چاہا اور ساتھ ہی یہ بھی کوشش کرتے رہے کہ لوگوں کے دلوں سے حضرت میاں صاحب کی محبت کم کر کے ان کی عزت گھٹا دیں۔مجھے چونکہ حضرت میاں صاحب کے حالات معلوم تھے اور مجھے ان سے محبت تھی میں ہمیشہ ان کی مخالفت کرتا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے میرے سامنے ایسی باتیں ترک کر دیں ان دنوں جب کہ حضرت میاں صاحب شملہ میں تھے میں نے آپ سے دریافت کیا کہ خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے رفقاء آپ سے کیوں ناراض ہیں؟ فرمایا۔یہ ان کی غلطی ہے خدا جانے ان کو کیا غلط فہمی ہوئی ہے بلکہ وہ میرے ساتھ ایک حقارت کا سلوک رکھتے ہیں اور سلام کا جواب بے رغبتی سے دیتے ہیں۔ایک سوال میں نے غالباً اس موقعہ پر یہ کیا کہ حضرت مولوی صاحب کے بعد آپ کے خیال میں کون خلافت کے لئے زیادہ موزون ہے۔آپ نے فرمایا خلیفہ کی زندگی میں اس قسم کا سوال اٹھانا میں گناہ سمجھتا ہوں اور کوئی جواب نہ دیا۔(مخص بیان منشی برکت علی صاحب شملوی) ۱۹۰ قیام شملہ ہی کا واقعہ ہے کہ حضرت صاجزادہ صاحب نے رویا دیکھا کہ ” میں ایک پہاڑی سے دوسری پہاڑی پر جانا چاہتا ہوں۔ایک فرشتہ آیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تمہیں پتہ ہے یہ رستہ بڑا خطرناک ہے۔اس میں بڑے مصائب اور ڈراؤنے نظارے ہیں۔ایسا نہ ہو تم ان سے متاثر ہو جاؤ اور منزل پر پہنچنے سے رہ جاؤ۔اور پھر کہا کہ میں تمہیں ایسا طریق بتاؤں جس سے تم محفوظ رہو۔میں نے کہا۔ہاں بتاؤ۔اس پر اس نے کہا۔کہ بہت سے بھیانک نظارے ہوں گے مگر تم ادھر ادھر نہ دیکھنا اور نہ ان کی طرف متوجہ ہونا۔خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتے ہوئے سیدھے چلے جانا۔ان کی غرض یہ ہوگی کہ تم ان کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔اگر تم ان کی طرف متوجہ ہو گئے تو اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہ جاؤ گے۔اس لئے اپنے کام میں لگ جاؤ۔چنانچہ میں جب چلا تو میں نے دیکھا کہ نہایت اندھیرا اور گھنا جنگل تھا اور ڈر اور خوف کے بہت سے سامان جمع تھے اور جنگل بالکل سنسان تھا جب میں ایک خاص مقام پر پہنچا جو بہت ہی بھیانک تھا۔تو بعض لوگ آئے