تاریخ احمدیت (جلد 3)

by Other Authors

Page 472 of 709

تاریخ احمدیت (جلد 3) — Page 472

تاریخ احمدیت جلد ۳ AC 464 اخبار " الفضل " اور " پیغام صلح " کا اجراء حضرت نواب محمد علی خان صاحب پہلے ہی یہاں مقیم تھے آپ کے بعد حضرت حافظ روشن علی صاحب بھی آگئے۔ان بزرگوں کی آمد سے فائدہ اٹھانے کے لئے جماعت شملہ نے ۲۰۔۲۱ / ستمبر کو سینٹ ٹامس چرچ میں اپنا سالانہ جلسہ منعقد کیا اور نواب سید محمد رضوی صاحب نے اس کے اخراجات برداشت کئے۔جماعت نے اشتہار شائع کرنے چاہے مگر چونکہ اس میں خاص طور پر ذکر تھا کہ جماعت احمدیہ کی خصوصیت پر لیکچر ہوں گے۔اس لئے پریس والوں نے ان کو چھاپنے سے انکار کر دیا۔اور جماعت والوں نے کہا کہ اب جلسہ نہ ہو سکے گا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے ان دنوں شملہ ہی سے انصار اللہ کے لئے ایک دستی پریس خرید اتھا آپ نے اس موقعہ پر فرمایا کہ لیکچر ضرور ہو گا۔اور اس کا پہلا تجربہ اس پریس سے کریں گے۔چنانچہ آپ نے اس وقت پینسل سٹینسل سے اشتہار لکھا اور آپ اور حافظ روشن علی صاحب دونوں نے راتوں رات بڑی کثرت سے اشتہار چھاپ دئے۔جو دوسرے دن شملہ میں چسپاں کر دئے گئے۔مخالفین نے تمام شہر میں اعلان کر دیا کہ احمدیوں کے جلسہ میں کوئی نہ جاوے۔مگر خدا کے فضل سے توقع سے کہیں بڑھ کر حاضری ہوئی۔اس جلسہ میں حضرت صاحبزادہ صاحب کے دو لیکچر ہوئے جو بہت مقبول و کامیاب ہوئے۔آپ نے دونوں لیکچروں میں سلسلہ احمدیہ کی کھلے الفاظ میں تبلیغ کی۔اور ان تقاریر کی رو نداد شائع کرتے ہوئے اخبار الحق (دہلی) نے لکھا۔میاں صاحب ممدوح کے دو لیکچر اس جگہ ہوئے ۲۰/ ستمبر کو مسلمان کیونکر ترقی کر سکتے ہیں " کے عنوان سے لیکچر دیا اور ۲۱ کو " الاسلام " کی سرخی سے دونوں لیکچروں کو سن کر سامعین جس قدر شگفتہ رو ہو کر گئے اور جس قدر خوش ہوئے وہ حد بیان سے باہر ہے محض قرآن مجید سے آپ کے تمام استدلال تھے۔ہر ایک دعوی پر آیات قرآن پیش کرتے تھے۔سامعین سے ہال بھرا ہوا تھا اور عموماً غیر احمدی لوگ و آریہ د سکھ شامل ہوئے آپ کے لیکچر کے بعد بابو محمد حسین صاحب نے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کا اما ان کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے علاوہ حضرت حافظ روشن علی صاحب کے "ختم نبوت" کے موضوع پر اور حضرت میر قاسم علی صاحب کے اسلام اور دیگر مذاہب" کے عنوان پر لیکچر ہوئے۔صدارت کے فرائض پہلے دن حضرت نواب محمد علی خان صاحب اور دوسرے دن نواب سید محمد رضوی صاحب AA نے سرانجام دئے۔خواجہ کمال الدین صاحب اور ان کے دوسرے رفقاء نے جن بڑے بڑے شہروں میں لیکچر دینے شروع کئے تھے ان میں شملہ کو خاص اہمیت حاصل تھی۔منشی برکت علی خان صاحب شملوی کا (جوان دنوں جماعت شملہ کے سیکر ٹری تھے ) بیان ہے کہ ان لیکچروں میں ایک تو یہ اصحاب احمدیت کے ذکر سے